صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2008 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

ضآد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,355

سوال (Question):

ضآد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

ضآد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ ضاد کو ظاد پڑھنا کیسا ہے؟ سائل محمد ارشد خوشاب الجواب مذکورہ صورت میں ضآد کو ظاد پڑھنا ناجائز و حرام ہے کیونکہ یہ عربی لفظ ہے اور عربی میں ضاد ہی پڑھا جائے گا- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، ض،ظ،ذ،ز سب حروف متبائنہ،متغائرہ(یعنی ایک دوسرے سے جدا جدا حروف)ہیں، ان میں سے کسی کو دوسرے سے تلاوتِ قرآن میں قصداََ بدلنا، اِس کی جگہ اُسے پڑھنا، نماز میں ہو خواہ بیرون نماز، حرام قطعی وگناہِ عظیم،اِفْتِراء عَلَی اللہ و تحریف ِکتاب کریم ہے- (فتاویٰ رضویہ جلد،6 صفحہ305- رضا فاؤنڈیشن لاہور) اس مسئلے کے بارے میں دلائل کے ساتھ تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی چھٹی جلد میں موجود ان رسائل کا مطالعہ فرمائیں: (۱) نِعْمَ الزَّادْ لِرَوْمِ الضَّادْ۔(ضاد کی ادائیگی کا بہترین طریقہ)(۲)اِلْجَامُ الصَّادْ عَنْ سُنَنِ الضَّادْ۔(ضاد کی ادائیگی کے غلط اور صحیح طریقوں کا بیان) واللہ اعلم عزوجل و ر سولہ اعلم ﷺ کتبہ :ابو رضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص فی الفقہ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh