Fatwa #2077
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ضحوہ کبری یا نصف النہار حقیقی کس میں نماز مکروہ ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
12,356
سوال (Question):
ضحوہ کبری یا نصف النہار حقیقی کس میں نماز مکروہ ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ضحوہ کبری یا نصف النہار حقیقی کس میں نماز مکروہ ہے
كیا فرماتے ہیں علماے كرام ضحوہ کبری یا نصف النہار حقیقی کس میں نماز مکروہ ہے۔ عموما یہ دونوں کتنی دیر کے ہوتے ہیں؟ بینوا توجروا الجواب طلوع صبح صادق سے غروب آفتاب تک کے نصف کو نصف النہار شرعی کہتے ہیں اس کا دوسرا نام ضحوہ کبری ہے ۔ اور طلوع آفتاب سے اس کے غروب تک کے نصف کو نصف النہار حقیقی کہتے ہیں ۔ نماز ضحوہ کبری سے نصف النہار حقیقی تک مکروہ ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی رضی عنہ ر بہ القوی تحریر فرماتے ہیں کہ ضحوہ کبری سے نصف النہار حقیقی تک سارا وقت وہ ہے جس میں نماز نہیں۔ ہاں جنازہ اسی وقت میں آیا تو پڑھ سکتے ہیں (فتاوی رضویہ جلد دوم صفحہ ۳۵۸) ضحوہ کبری اور نصف النہار حقیقی یہ دونوں وقت ایک آن کے لئے ہو کر فوراختم ہو جاتے ہیں۔ مگر کبھی ان کا اطلاق پورے وقت مکروہ پر ہوتا ہے جیسے کہ زوال کا وقت ایک آن کے لئے ہوتا ہے لیکن وہ کل وقت مکروہ کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ شامی جلد اول صفحہ ۲۴۸ میں ہے “لا یخفی ان زوال الشمس انما هو عقيب انتصاف النهار بلا فصل و فى هذا القدر من الزمان لا يمكن أداء صلاة فیہ ” ضحوہ کبری اور نصف النہار حقیقی ان دونوں کے درمیان کا وقت جس میں نماز نا جائز ہے اس کے بارے میں اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ ” یہ وقت ہمارے بلاد میں کم سے کم ۳۹ منٹ اور زیادہ سے زیادہ 47 منٹ ہوتا ہے ۔ ( فتاوی رضویہ جلد دوم صفحه ۳۴۵) و الله تعالی اعلم كتبه: جلال الدین احمد الامجدی ۲۳ شوال المکرم ۱۴۱۹ھ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9