صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1538 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,722

سوال (Question):

طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

طالب علم کا مدرسہ میں دینے کے لئے زکوۃ دی اس نے آدھا مدرسہ میں دیا آدھا خود رکھ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

سوال : زید ایک مدرسہ کا طالب علم ہے جب وہ چھٹی میں گھر آیا تو اسے کچھ رقم زکوۃ کی ملی کہ اس کو اپنے مدرسے میں دے دینا زید جب مدرسہ گیا کچھ دن رہا پھر وہاں سے ہمیشہ کے لئے آنے لگا تو مجبوری کےتحت زکوۃ کا کچھ حصہ مدرسہ میں دے دیا اور کچھ نہیں دیا تو وہ زکوۃ کا روپیہ زید پر جائز ہے جو طالب علم ہے؟ جب وہ مدرسہ میں تھا زکوۃ کھایا کرتا تھا لیکن اب وہ اس مدرسے کا متعلم نہیں ہے اس کے اوپر زکوۃ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو اس مدرسہ میں دے یا اس کے مالک کو واپس کر دے؟بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــ جب زکوۃ دینے والے نے اس زکوۃ کی رقم مدرسہ میں دینے کے لیے کہا تھا تو اب اس طالبعلم اس کو اپنے اوپر خرچ نہیں کر سکتا ہے کہ اس بچی ہوئی رقم کو یا تو مدرسے میں دے دے یا اس کے مالک کے حوالے کردے. بہار شریعت میں ہے کہ وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ خود لے لے ہاں اگر زکوۃ دینے والے نے یہ کہہ دیا ہو کہ جس جگہ چاہو صرف کرو تو لے سکتا ہے (صفحہ22 حصہ پنجم) در مختار میں ہے ” وللوکیل ان یدفع لولدہ الفقیر وزوجتہ لا لنفسہ الا اذا قال ربھا ضعھا حیث شئت (ج 2 صفحہ 269، کتاب الزکوۃ، مطلب فی الفرق بین السبب والشرط) واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh