Fatwa #2640
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
4,807
سوال (Question):
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق سے کئی سال پہلے سے شوہر کے پاس نہیں تھی تو اس عدت کیا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ذید نے ھندہ کو طلاق دی تو عورت کو عدت کتنی گزارنی ھوگی جبکہ طلاق شدہ عورت پانچ سال سے اپنے ماں باپ کے ساتھ ہے؟ اور یہی عورت طلاق کے بعد ایک یا دو مہینے کے اندر دوسری شادی کرتی ہے تو کر سکتی ہے؟الجواب
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ طلاق سے پہلے چاہے جتنا عرصہ عورت شوہر سے جدا رہی ہو اس کا اعتبار نہیں، طلاق کے بعد عدت کا شمار ہوتا ہے،اور مدخولہ حائضہ غیر حاملہ کی عدت تین ماہواریاں ہیں چاہے وہ دو ماہ میں آئیں یا دو سال میں، تین ماہواریاں گزرنے سے پہلے عورت کا نکاح کرنا فاسد اور اشد حرام ہے۔ واللہ اعلم بالصواب کتبہ : مفتی کامران عطاری مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
11
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9