Fatwa #1322
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,177
سوال (Question):
طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق نامہ پر دستخط کر دیا جبکہ اسے یہ نہیں بتایا گیا یہ تمہاری بیوی کے بارے میں ہے تو ؟
مسئلہ: از: انعام علي خان ، بھدرک ، اڑیسہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرح متین مسئولہ ذیل میں کہ زید ایک تعلیم یافتہ انسان ہے جو کہ سرکاری نوکری کرتا ہے زید کا چچازید پر بڑا مہربان ہے اس طرح سے کہ زید کو نوکری چچا نے دلوایا شادی کرایا گویا کی ماں باپ سے زیادہ مہربان ہے۔ زید کی شادی چند سال پہلے ہندہ سے ہوئی تھی جب زید اپنے تعطیل کے ایام گزارنے کے لئے اپنے سسرال کو جانے لگا تو اس وقت زید کے چچا کی چھوٹی لڑکی بضد ہوکر زید کے سسرال گئی یہ لڑکی وہاں جاکر زید کے سالے کے ساتھ عشق بازی کرنے لگی نتیجہ یہ ہوا کہ لڑکی نے اپنی مرضی سے زید کےسالے کے ساتھ نکاح کیا ۔ اس نکاح سے زید کے چچا اور تمام گھرانے والے ناراض تھے۔ زید ،چچا اور تمام گھرانے والے کی بے انتہا کوشش کے باوجود لڑکی کو واپس نہ لا پائے۔ اس کوشش میں طرفین کی بےعزتی بھی ہوئی۔ اب انتقام لینے کے لیے زید کے چچا نے محرر سے یک طلاق نامہ لکھوایا اور زید کو دستخط کرنے کو کہا زید اپنے مہربان چچا کی بات کو ٹال نہ سکا اور دستخط کردیا۔ اس طلاق نامہ پر دستخط کرنے کے بعد زید اپنی بیوی ہندہ کو گھر پھر لے آیا اور ازدواجی زندگی گزارنے لگا۔ جس طلاق نامہ پر دستخط کیا اس میں تحریر تھی ۔ ” میں جان بوجھ کر صحیح عقل سے سوچ کر بغیر زبردستی کے اپنی بیوی ہندہ کو طلاق طلاق طلاق دیا اور آئندہ کے لئے میرا ہندہ پر اور ہندہ کا مجھ پر کوئی حق باقی نہ رہا ۔” اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید پر شریعت کا کون سا حکم نافذ ہوتا ہے بحوالہ کتب جواب عنایت کریں۔ بینوا توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــــ مکرو فریب کچہری میں چل سکتا ہے ۔شریعت مطہرہ میں ہرگز نہیں چلے گا۔ سوال سے ظاہر ہے کہ زید کو تحریر کا وہ حصہ نہیں دکھایا گیا جہاں اس کی بیوی کے متعلق طلاق کے الفاظ تھے ۔ اور نہ خود اس نے طلاق کے جملے دیکھے اور نہ اسے بتایا گیا کہ تمہاری بیوی کے متعلق طلاق نامہ ہےاور زید نے طلاق نامہ سمجھ کر اس پر دستخط کئے تو اس کی بیوی پر طلاق نہیں واقع ہوئی۔ لہذا اگر صورتحال یہی ہے تو زید دستخط کرنے کے بعد اپنی بیوی ہندہ کو پھر اپنے گھر لا کر ازدواجی زندگی گزار رہا ہے تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم۔ ماخوذ : از فتاوی فقیہ ملت جلد دوم / طلاق کے مسائل
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9