صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1468 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,818

سوال (Question):

طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرا لیا تو کیا حکم ہے؟

مسئلہ:- از: صوفی محمد صدیق نوری، جواہر مارگ ، اندور۔ طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرالیا تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں اگر جبر شرعی ہے یعنی قتل، یا کسی عضو کے کاٹے جانے یا ضرب شدید کا ظن غالب ہو گیا تو اس صورت میں اس نے طلاق نامہ پر دستخط کر دیا مگر نہ دل میں طلاق کا ارادہ کیا نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔ اور اگر محض سخت اصرار پر کہ اس کی بات کیسے ٹالی جائے دستخط کردیا تو طلاق واقع ہو گئی کیونکہ یہ جبر نہیں ۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد پنجم صفحہ ٦٣١میں ہے ۔ اور تنویر الابصار جلد دوم صفحہ ٤٥٦ میں ہے:” يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو مكرها أو مخطئاً. اھ، درمختار جلد دوم صفحہ ٤٥٧ میں بحر سے ہے:” إن المراد الإكراه علي التلفظ بالطلاق فلو اكره علي ان يكتب طلاق امراته فكتب لا تطلق لأن الكتابة اقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة. اھ” والله تعالى اعلم بالصواب. الجواب الصحيح: جلال الدين احمد الامجدي كتبه: محمد سمير الدين حبيبي مصباحي

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh