صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #363 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

طلبہ کی غیر حاضری پر مالی جرمانہ عائد کر نا کیسا ہے

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,838

سوال (Question):

طلبہ کی غیر حاضری پر مالی جرمانہ عائد کر نا کیسا ہے

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

طلبہ کی غیر حاضری پر مالی جرمانہ عائد کر نا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال : علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ اسکول اور کالجوں میں طلبہ سے غیر حاضری کے طور پر اور ہوم ورک وغیرہ نہ کرنے پر جرمانے کے طور پر رقم لینا کیسا ہے اور اس رقم کو اسکول کالج میں میں خرچ کرسکتے ہیں یا نہیں جب کہ اسکول اور کالج پرائیویٹ ہوتے ہیں اس رقم کو مالک رکھ سکتا ہے یا نہیں ۔

ازروئے شرع جواب عنایت فرماکر ذرہ نوازی کا موقع عنایت فرمائے.

سائل: محمد آصف نظامی، مندسور ایم پی

الجواب بعون الملک الوہاب :

جن اسکول و کالج میں فری سہولیات مہیا نہیں، وہاں لیٹ فیس تعزیر بالمال ہے جو ناجائز وممنوع ہے ۔ اور جہاں فری سہولیات مہیا ہیں وہاں پیسہ لینا تعزیر بالمال نہیں بلکہ قیام وطعام کی سہولیات کا معاوضہ ہے کہ وہ مدرسہ یا کالج طالب علم کو جو فری سہولیات دے رہا ہے اس نے اس طالب علم کے لئے انکو چند دنوں کے لئے روک دیا ہے تاکہ وہ غیر حاضری وغیرہ سے باز آجاے اور محنت سے پڑھے ۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدقادری مصباحی

4/اگست 2018ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh