Fatwa #1475
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
5,613
سوال (Question):
ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
ظہر کی جماعت سے پہلے ظہر کی قضا پڑھنا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ ظہر کی جماعت قائم ہونے سے پہلے وقت ہو تو چار رکعت سنت ظہر کے بعد یا اس سے پہلے ظہر کی چار رکعت قضا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور ظہر کے فرض و سنت کے بعد پانچ وقتوں کی قضا پڑھنا کیسا ہے ؟ اور ایک وقت میں دوسرے وقت کی قضا پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــ ظہر کی جماعت قائم ہونے سے پہلے اگر وقت ہو تو چار رکعت سنت ظہر پڑھنے کے بعد یا اس سے پہلے ظہر کی چار رکعت قضا پڑھ سکتا ہے ۔ اور ظہر کے فرض اور سنت کے بعد بھی پانچ وقتوں کی قضا پڑھ سکتا ہے اور ایک وقت میں دوسرے وقت کی قضا پڑھ سکتا ہے اس لئے کہ قضا کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں ۔ مگر سورج کا کنارہ ظاہر ہونے سے 20 منٹ بعد تک اور سورج ڈوبنے کے 20 منٹ پہلے سے سورج ڈوبنے تک اور دوپہر میں کوئی بھی نماز جائز نہیں. البتہ اس روز عصر کی نماز اگر نہیں پڑھی ہے تو اگر سورج ڈوبتا ہو پڑھ لے مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے. ایسا ہی بہار شریعت حصہ سوم صفحہ 21 پر ہے. اور فتاویٰ عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 121 مطبوعہ بیروت میں ہے ” ليس للقضاء وقت معين بل جميع اوقات العمر وقت له الا ثلاثۃ وقت طلوع الشمس و وقت الزوال ووقت الغروب فلانه لا تجوز الصلاۃ في هذه الاوقات كذا في البحر الرائق ١ھ. اور اسی جلد کے صفحہ 52 پر ہے” ثلاث ساعات لا تجوز فيها المكتوبۃ اذا طلعت الشمس حتى ترتفع عند الانتصاف الي ان تزول وعند احمرارها الي ان تغيب الا عصر يومه ولا يجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتۃ من اوقاتها کالوتر. لیکن قضا نماز گھر میں پڑھنے کا حکم ہے اور مسجد میں پڑھی جائے تو حتی الامکان چھپا کر پڑھی جائے تاکہ لوگوں پر ظاہر نہ ہو کہ فضا پڑھ رہا ہے. اس لئے کہ نماز قضا کرنا گناہ اور گناہ کا ظاہر کرنا بھی گناہ. ” اظھار المعصیہ معصیۃ” اسی لئے جب کوئی وتر کی قضا عشاء کے وقت فرض اور اس کے بعد کی سنت سے پہلے پڑھے یا دوسرے وقتوں میں لوگوں کے سامنے پڑے تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ تیسری رکعت میں دعائے قنوت سے پہلے تکبیر کہے مگر کانوں تک ہاتھ نہ اٹھائے. ردالمختار جلد اول باب الوتر صفحہ 492 میں ہے ” رافعا یدیہ لو فی الوقت اما فی القضاء عند الناس فلا یرفع حتی لا یطلع احد علی تقصیرہ ١ھ. ملخصا. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9