صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1298 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عدت کے اندر نکاح پڑھانے والے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,580

سوال (Question):

عدت کے اندر نکاح پڑھانے والے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عدت کے اندر نکاح پڑھانے والے کا حکم

السلام عليكم ورحمة اللہ وبركاته کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ اگر طلاق کے بعد اب خبر نہیں کتنی طلاقیں دی گئی ۔ لیکن آٹھ دن کے بعد کسی حافظ صاحب نے نکاح کروا دیا ۔ تو کیا عدت میں نکاح ہوسکتا ہے ؟ اور پڑھانے والے پر کیا حکم شرع ہے وضاحت کیجئے ۔ سائل محمد سعید جموں الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ عورت کو ایک طلاق دی گئی ہو یا دو یا تینوں دے دی گئی ہوں بہر حال عدت میں شوہر کے علاوہ کسی سے نکاح حرام ہے۔ ہاں! اگر شوہر نے صرف ایک یا دو بائن طلاق دی ہو اور عدت میں عورت اس سے دوبارہ نکاح کرنے پر رضا مند ہو تو عدت میں نکاح ہوسکتا ہے ۔ لیکن اگر تین طلاق دے دی ہو تو عدت میں نہ تو شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے نہ کسی اور سے ۔ علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: “(وَيَنْكِحُ مُبَانَتَهُ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فِي الْعِدَّةِ وَبَعْدَهَا بِالْإِجْمَاعِ) وَمُنِعَ غَيْرُهُ فِيهَا لِاشْتِبَاهِ النَّسَبِ (لَا) يَنْكِحُ (مُطَلَّقَةً) مِنْ نِكَاحٍ صَحِيحٍ نَافِذٍ مَا سَنُحَقِّقُهُ (بِهَا) أَيْ بِالثَّلَاثِ۔” (در مختار ج۵ ص۴٠) صرف آٹھ دن میں عدت مکمل ہونے کی ایک ہی صورت ہوسکتی ہے کہ طلاق کے وقت عورت حمل سے رہی ہو اور طلاق کے بعد آٹھ دن سے پہلے بچہ کی پیدائش ہوگئی ہو اس کے علاوہ آٹھ دن میں عدت مکمل ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ اب اگر نکاح پڑھانے والے کو عورت کے عدت میں ہونے کا علم رہا ہو تو نکاح پڑھانے والا فاسق، سخت گنہگار، مستحق عذاب نار ہے ، بلکہ اگر عدت میں نکاح کو جائز سمجھ کر پڑھایا تو اس کو تجدید اسلام اور پھر اپنا نکاح دوبارہ کرنے کا حکم ہے۔اور اگر لا علمی میں پڑھا دیا تو معذور ہے۔وذٰلک لان الجھل فی موضع الخفاء عذر مقبول۔ امام اہل سنت، مجدد دین وملت، اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “عد ت میں نکاح تو نکاح، نکاح کا پیغام دینا حرام ہے۔ جس نے دانستہ عدت میں نکاح پڑھایا اگر حرام جان کر پڑھایا سخت فاسق اور زنا کار کا دلال ہوا، مگر اس کا اپنا نکاح نہ گیا، اور اگر عدت میں نکاح کو حلال جانا تو خود اس کا نکاح جاتا رہا اور وہ اسلام سے خارج ہوگیا، بہر حال اس کو امام بنانا جائز نہیں جب تک توبہ نہ کرے ۔ یہی حال شریک ہونے والوں کا ہے ۔ جو نہ جانتا تھاکہ نکاح پس از عدت ہو رہا ہے اس پر کچھ الزام نہیں اور جو دانستہ شریک ہوا اگر حرام جان کر ہوا تو سخت گنہ گار ہوا۔ اور حلال جانا تو اسلام بھی گیا۔” (فتاوی رضویہ ج۵ ص١٧٩ ) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ٢٦/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ/٣٠/جنوری ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh