صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1591 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عرفہ کسے کہتے ہیں اور یہ کب ہوتا؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,082

سوال (Question):

عرفہ کسے کہتے ہیں اور یہ کب ہوتا؟ از مفتی محمد رضا مرکزی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عرفہ کسے کہتے ہیں اور یہ کب ہوتا؟

سوال :عام طور سے شبِ برات سے ایک دن پہلے کو عرفہ ما نا جاتا ہے؟ حلوہ اور ایصال ثواب کے بارے میں بھی کچھ معلومات فراہم کریں کرم ہو گا؟ سائل : محمد آمین جلال الدین گولڈن نگر مالیگاؤں وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب عرفہ کرنا کوئی معیوب فعل نہیں ہے بلکہ یہ ایصال ثواب ہے جب چا ہیں کرسکتے ہیں کوئی حرج نہیں ہاں یہ کہنا کہ شب برأت سے ایک دن پہلے یا دو دن پہلے ہی ہو سکتا ہے یا جب تک عرفہ نہ ہو گا روح بھٹکتی رہے گی یا مؤمنین کی جماعت یعنی قبرستان میں داخل نہ ہوگی یہ سب جہالت ہے ، اللہ تو فیق دے تو ہر دن ہر ہفتہ ہر مہینہ ایصال ثواب کرسکتے ہیں پھر اس میں حلوہ روٹی کی خصوصیت بھی نہیں ہر جائز اشیاء پر نیاز و فاتحہ درست ہے ہاں ایک بات ضرور ہے کہ برادری میں تقسیم کرنا منع ہے بلکہ اسے غریبوں یتیموں میں تقسیم کریں نہ کہ امیروں میں سیدی سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے روح نکالنے،عرفہ سے پہلے میت کا فاتحہ الگ دینے اور برادری میں تقسیم کرنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”روح نکالنا محض جہالت و حماقت وبدعت ہے،ہاں فاتحہ دلانا اچھا ہے، شکر، چاول مساکین کو تقسیم کرنا خوب ہے مگر برادری میں موت کے لئے نہ بانٹا جائے، عرفہ تک یابعد تک اگر الگ ہمیشہ فاتحہ دیں تو حرج نہیں، شامل رکھیں تو حرج نہیں، یہ سمجھنا کہ عرفہ تک الگ کا حکم ہے پھر شامل کا، یہ غلط وجہالت ہے، میّت کی دعوت برادری کے لیے منع ہے ان کا بُرا ماننا حماقت ہے، ہاں برادری میں جو فقیر ہو اسے دینا اور فقیر کے دینے سے افضل ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد ۹/ص ۶۱۱ لاہور) نوٹ : عرفہ کرنے اور غربا و مساکین کو تقسیم کرنے کا اصل مقصد ہوتا ہے ایصال ثواب کرنا اس لئے لوگ برادری میں حلوہ اور روٹی تقسیم کرتے ہیں مگر اسے کھانے کے بجائے جانور کو کھلا دیاجاتا ہے یا پھر پھینک دیا جاتا ہے واللہ یہ فقیر کا بارہا کا مشاہدہ ہے لہٰذا تقسیم نہ کرکے کچھ رقم غریبوں یتیموں میں تقسیم کردیں یا انکی دیگر ضروریات پوری کردیں یا پھر غرباء و مساکین کو گھر پر بلا کر دعوت کھلا دیں کیوں کہ عرفہ کرنا فرض و واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے اور مستحب کے چکر میں مال کو ضائع کر دیا جاتا ہے،جانور کو کھلا دیا جاتا ہے اس لئے تقسیم نہ کرکے کوئی اور طریقے سے ایصال ثواب کریں ہاں اگر آپ کو یقین ہو کہ فلاں کھاتا ہے تو بیشک آپ اسے دے سکتے ہیں بلکہ ایسے غریب کو دینا افضل ہے۔ وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبـــــہ : مفتی محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh