صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1673 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عشاء کی نماز جماعت سے نہیں پڑھی تو وتر تنہا پڑھے گا یاجماعت کے ساتھ ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,887

سوال (Question):

عشاء کی نماز جماعت سے نہیں پڑھی تو وتر تنہا پڑھے گا یاجماعت کے ساتھ ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عشاء کی نماز جماعت سے نہیں پڑھی تو وتر تنہا پڑھے گا یاجماعت کے ساتھ ؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ.. کیافرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے عشاء کی نماز جماعت سے نہیں پڑھی تو وتر تنہا پڑھے گا یاجماعت کے ساتھ ؟ (سائل قاری ثقلین قادری ضلع جھنگ) وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ الجواب بعون الملک الوھّاب اگرعشاءکی نمازباجماعت نہیں پڑھی تو وترتنہاپڑھیں یاجماعت کےساتھ اس مسئلہ میں علماءکااختلاف ہے . ردالمحتار میں ہے اذا لم یصل الفرض معہ لا یتبعہ فی الوتر: ترجمہ : اگر فرض نماز امام کے ساتھ نہ پڑھی ہو تو وتر بھی امام کے ساتھ نہ پڑھے (1) ردالمحتار،کتاب الصلوٰۃ،باب الوتر والنوافل،جلد2،صفحہ47،دارالفکر ،بیروت) امام اہلسنت مجدددین وملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں ،جس نے فرض اکیلے پڑھے ہوں وہ وتر کی جماعت میں شریک نہ ہو اور جس نے فرض جماعت سے اداکئے ہوں اگرچہ کسی دوسرے کی جماعت کے ساتھ پڑھے ہوں وہ اس وتر پڑھانے والے کے ساتھ جماعت میں شریک ہوسکتاہے اگرچہ اس نے اس امام کے ساتھ تراویح نہ پڑھی ہوں، یہی صحیح اور قابل اعتماد ہے: (2)فتاویٰ رضویہ، جلد7، صفحہ،555، رضا فاؤ نڈیشن،لاہور) (مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، اگر عشا جماعت سے پڑھی اور تَراویح تنہا تو وتر کی جماعت میں شریک ہو سکتا ہے اور اگر عشا تنہا پڑھ لی اگرچہ تَراویح باجماعت پڑھی تو وتر تنہا پڑھے: (3)بہار شریعت حصہ 5صفحہ693،مکتبۃ المدینہ) (4) الدرالمختاروردالمحتار جلد2صفحہ603) (اگر عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو تراویح جماعت سے پڑھ سکتا ہے لیکن وتر تنہاء پڑھے گا: (5)شرح منیۃ المصلی للحلبی،ص،410) ( فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے جس شخص نےعشاءکی فرض نمازتنہاپڑھی اسے وترکی جماعت میں شامل ہونےکی اجازت نہیں،اسےتنہاپڑھے،، (6) فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ200) (پروفیسر مفتی منیب الرحمٰن صاحب تحریر فرماتے ہیں، نمازی کوچاہیےکہ مسجدمیں پہنچنےکےبعدپہلےاپنی فرض نمازتنہاپڑھےاورپھرتراویح کی جماعت میں شریک ہوجائےاوروتربھی جماعت کےساتھ پڑھےکیونکہ جماعت کااجرتنہانمازپڑھنےکےمقابلہ میں زیادہ ہے،جب فرض کی جماعت ترک ہوجانےکےباوجودتراویح باجماعت پڑھتےہیں جب کہ تراویح کی نمازسنت مؤکدہ ہےاوراس کی جماعت کوفرض کی جماعت کےتابع نہیں سمجھتےتووترکی نمازجوواجب ہےاس کی جماعت فرض کی جماعت کےتابع کس طرح ہوگی؟؟: (7) تفہیم المسائل جلداول صفحہ نمبر136) (المختصراگرکوئ عشاءکی جماعت میں شامل نہیں ہواتوبہتریہ ہےکہ وترتنہاپڑھے،لیکن اگروہ وتروں کی جماعت میں شامل ہوجائےتواس کایہ عمل کوئ گناہ و مکروہ تحریمی نہیں ہےاس کےوتر اداہوجائیں گے،لیکن یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے: واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبہ : ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh