صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #670 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,168

سوال (Question):

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عصراور مغرب کے دوران روزہ رکھنا (یعنی عصر سے مغرب تک نہ کھانا نہ پینا) کیسا ہے ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ پاکستان و ہندوستان میں اسے عصر اور مغرب کے درمیان والا روزہ کہاجاتا ہے جبکہ بعض جگہوں پر اس کو عصر کا روزہ بھی کہتے ہیں ۔ حدیث و فقہ میں اس کی اصل نہیں ہے اور نہ ہی یہ روزہ ہے البتہ بعض بزرگوں کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ عصر اور مغرب کے درمیان کچھ کھاتے پیتے نہیں تھے ۔ تو جو بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عصر تا مغرب کھانے پینے سے باز رہے گا اتنا ہی نفسانی شہوات و لذات سے بچا رہے گا اور جتنا نفسانی خواہشات سے بچے گا اتنا ہی اس کے لیے باعث اجروثواب ہوگا ۔ چنانچہ سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ سے جب اس کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواباً ارشاد فرمایا : “حدیث فقہ میں اس کی اصل نہیں معمولاتِ بعض مشائخ سے ہے اور اس پر عمل میں حرج نہیں انسان جتنی دیر شہوات نفسی سے بچے بہتر ہے ۔ ” (فتاوی رضویہ جلد23 صفحہ 106 رضا فاؤنڈیشن لاہور ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبید رضا مدنی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh