صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1616 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,209

سوال (Question):

عورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی

السلام علیکم ورحمتہ اللہْ علماء کرام کی بارگاہ میں میرا سوال ہے کہ کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں اگر نہی کرواسکتی تو وجہ اگر کرواسکتی ہے تو کس کس کی اور کہاں پر جماعت کرواۓ گی۔۔۔۔۔مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ محمد ساجد قادری۔۔ جموں و کشمیر الجواب بعون الملک الوھاب عورتوں کی جماعت اور ان کی امامت مکروہ تحریمی ہے چاہے وہ فرض نماز ہو یا غیر فرض، مسجد میں ہو یا گھر میں. اعلاءالسنن میں ہے : عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) “الفتاوی الھندیۃ “میں ہے: ویکرہ امامۃ المرءۃ للنساء فی الصلوت کلھا من الفرائض والنوافل. (جلد اول،، صفحہ ۵۸) فتاوی شامی میں ہے: ” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح. فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت”.(ج ٢ /٣٠٥) “تبیین الحقائق ” میں ہے: کرہ جماعۃ النساء وحدھن لقولہ علیہ السلام صلاۃ المرءۃ فی بیتھاافضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا”(جلد اول،صفحہ ۸۴۳) ہاں! اگر گھر میں امامت کرنے والا مرد ہو اور شریک جماعت عورتوں میں کوئی مرد بھی ہو یا امام کی بیوی یا اس کے محارم میں سے کوئی ہو تو اس طرح عورتیں بھی شریکِ جماعت ہوسکتی ہیں، لیکن عورتوں کوجماعت کے لیے باہر جانا جائز نہیں ہے۔ در مختار میں ہے: “وَيُكْرَهُ حُضُورُهُنَّ الْجَمَاعَةَ) وَلَوْ لِجُمُعَةٍ وَعِيدٍ وَوَعْظٍ (مُطْلَقًا) وَلَوْ عَجُوزًا لَيْلًا (عَلَى الْمَذْهَبِ) الْمُفْتَى بِهِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ، وَاسْتَثْنَى الْكَمَالُ بَحْثًا الْعَجَائِزَ وَالْمُتَفَانِيَةَ (كَمَا تُكْرَهُ إمَامَةُ الرَّجُلِ لَهُنَّ فِي بَيْتٍ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ غَيْرُهُ وَلَا مَحْرَمٌ مِنْهُ) كَأُخْتِهِ (أَوْ زَوْجَتِهِ أَوْ أَمَتِهِ، أَمَّا إذَا كَانَ مَعَهُنَّ وَاحِدٌ مِمَّنْ ذُكِرَ أَوْ أَمَّهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ لَا يُكْرَهُ بَحْرٌ۔” (در مختار، کتاب الصلاة، باب الامامة) بہار شریعت میں ہے: “جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں ، اس میں مرد کو ان کی اِمامت ناجائز ہے، ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں۔” (بہار شریعت ح٣ص۵٨٨) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔ ١٦ شعبان ١٤٤٣/ ٢٠ مارچ، ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh