صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #752 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,548

سوال (Question):

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عورت اپنی شادی میں کتنے مہر کا مطالبہ کر سکتی ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ مہر عورت کا حق ہے، وہ اپنی شادی میں جتنا چاہے مہر مانگ سکتی ہے وہ چاہے تو مہر فاطمی کا مطالبہ کرے ۔ مگر اس کے لیے شوہر کی رضا مندی ضروری ہے ،اسے جو بھی مانگنا ہے مانگ سکتی ہے ، لیکن جتنے پر میاں بیوی کا اتفاق ہو جائے اتنا ہی مقرر کیا جائے ۔ مہر زیادہ سے زیادہ مقرر کرنا چاہیے۔ قرآن مجید میں مہر کے لیے” قنطار” کا لفظ آیا ہے یعنی “مال کثیر” خود ازواج مطہرات کے مہر اچھی مقدار میں تھے۔ حضرت سیدتنا فاطمہ الزہرارضی اللہ تعالی عنہا کا جو مہر مقرر ہوا تھا وہ ایک کلو آٹھ سو چھیاسٹھ گرام ، دو سو چالیس ملی گرام (1866,240g) چاندی تھا۔ لیکن آج کے زمانے میں مہر کی حیثیت گھٹا دی گئی ہے اور لوگ مہر کے تعلق سے بخل سے کام لے رہے ہیں اس لیے عورتوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر کا مطالبہ کریں کریں ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh