صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1451 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,963

سوال (Question):

عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عورت وصیت کر سکتی ہے یا نہیں کیا بعد وفات اس وصیت پر عمل ہو گا؟

سوال : والدہ اگر اپنی حیات میں شرعاً وصیت کرنا چاہے تو کس طرح وصیت کرے ۔ اور وفات کے بعد جس کے نام وصیت کی گئی ہو اس پر عمل کیا جائے گا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں. الجوابــــــــــــــــــ اگر کوئی عورت اپنی زندگی میں کسی کے لیے وصیت کرنا چاہے تو کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ وصیّت تہائی مال کی ہو اور وہ کسی وارث کے لئے نہ ہو تو یہ جائز ہے ورنہ نہیں. ہدایہ آخرین میں صفحہ 654 پر ہے “لا تجوز بما زاد علی الثلث ١ھ. اور لا تجوز لوارثہ. ” ١ھ. اسی میں صفحہ 607 پر ہے لقولہ علیہ السلام” لا وصیۃ لوارث ” اگر کوئی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کر دے تو بھی وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہوگی البتہ عاقل بالغ ورثہ مرنے کے بعد تہائی مال سے زیادہ کی اجازت دے دیں تو جائز ہے. عالمگیری جلد 6 صفحہ ٩٠ پر ہے  “لا تجوز بما زاد علی الثلث الا ان یجیزہ الورثۃ بعد موتہ وھم کبار ١ھ. البتہ وصیت میراث پر مقدم ہے اسلئے پہلے وصیت کی ادائیگی کی جائے گی پھر ما بقیہ مال ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا. درمختار جلد 6 صفحہ 760 پر ہے ” تقدم وصیتہ من ثلث ما بقی ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ١ھ. واللہ تعالی اعلم ۔ الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد اجمل حسین بلرام پوری

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh