صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1499 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,528

سوال (Question):

عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟ از مفتی ارشاد رضا علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں ؟

سوال:- عورت کے لیے اذان کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر کہے تو کیا حکم ہے؟ باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:- عورت کے لیے اذان کہنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر کہے تو اعادہ کیا جائے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے “وكره أذان المرأة فيعاد ندبا كذا فى الكافى”(ج ۱ ص ۵۴) اور درمختار میں ہے ” ويكره أذان جنب واقامته واقامة محدث لا أذانه على المذهب وأذان امرأة” پھر چند سطر بعد مذکور ہے “وكذا يعاد أذان امرأة ومجنون ومعتوه وسكران وصبي لا يعقل”(ج ۲ ص ۶۰ تا ۶۱) اور تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے “قال رحمه الله :وكره أذان الجنب واقامته واقامة المحدث وأذان المرأة والفاسق والقاعد والسكران، پھر آگے اسی میں ہے “ويعاد أذانها استحبابا لوقوعه لا على الوجه المسنون”(ج ۱ ص ۲۴۹ تا ۲۵۰) کتبہ:- محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامی بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحيح محمد اختر حسین قادری خادم افتا ودرس دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh