صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1345 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

غسل میں کتنے فرائض ہیں؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,463

سوال (Question):

غسل میں کتنے فرائض ہیں؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غسل میں کتنے فرائض ہیں؟

الجوابــــــــــــــــــــ غسل میں تین فرض ہیں. اول) کلی کرنا یعنی منہ کے ہر پرزے گوشے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. دوم) ناک میں پانی ڈالنا یعنی ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے (سخت ہڈی تک دھنا) سوم) تمام ظاہری بدن پر پانی کا بہہ جانا یعنی سر کے بالوں سے تلووں کے نیچے تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا بہہ جانا. در مختار مع شامی جلد اول صفحہ 111 میں ہے ” فرض الغسل غسل کل فمہ وانفہ حتی ما تحت الدرن وبدنہ لا دلکہ ویفرض غسل کل ما یمکن من البدن بلا حرج مرۃ. ١ھ. اور حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ غسل کے تین جز ہیں. اگر ان میں سے ایک میں بھی کمی ہوئی غسل نہ ہوگا چاہے یوں کہو کہ تین فرض ہیں (1) کلی کہ منہ کے ہر پرزے گوشے ہونٹ سے حلق کی جڑ تک ہر جگہ پانی بہہ جائے. (2) ناک میں پانی ڈالنا یعنی دونوں نتھنوں کا جہاں تک نرم جگہ ہے اس کا دھلنا کہ پانی کو سونگھ کر او پر چڑھائے بال برابر بھی جگہ بھی دھلنے سے رہ نہ جائے ورنہ غسل نہ ہو گا. ناک کے اندر رینٹھ سوکھ گئی ہے تو اس کا چھڑانا فرض ہے نیز ناک کے بالوں کا دھونا بھی فرض ہے. (3) تمام ظاہری بدن یعنی سر کے بالوں سے تلووں تک جسم کے ہر پرزے رونگٹے پر پانی بہہ جانا. بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 34 مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ جلد اول صفحہ 94 ملاحظہ فرمائیں. واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد سمیر الدین حبیبی مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh