صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1282 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,830

سوال (Question):

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غسل کی حاجت ہو اور فجر کا وقت تنگ ہو تو کیا تیمم جائز ہے؟

سوال :ایک شخص کو غسل کی حاجت ہے اتفاق سے اس کی آنکھ ایسے وقت کھلی جب کہ فجر کی نماز کا وقت بہت تنگ ہو گیا کہ اگر غسل کرے تو نماز قضا ہو جائے گی. تو کیا ایسا شخص غسل کا تیمم کر کے نماز پڑھ سکتا ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ جب کہ نماز کا وقت اتنا تنگ ہو گیا کہ جلدی سے غسل کرکے نماز نہیں پڑھ سکتا تو اگر جسم پر کہیں نجاست لگی ہو تو اسے دھو کر غسل کا تیمم کرے اور وضو بنا کر نماز پڑھ لے. پھر غسل کرے اور سورج بلند ہونے کے بعد نماز دوبارہ پڑھے. ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 584 میں ہے. مگر یہ اس صورت میں ہے جب کہ کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے اور سارے بدن پر پانی بہانے کے بعد دو رکعت فرض پڑھنے بھر کا بھی وقت نہیں ہے اور اگر اتنا وقت ہے لیکن صابن وغیرہ لگا کر اہتمام سے نہانے بھر کا وقت نہیں ہے تو فرض ہے کہ صابن وغیرہ کے بغیر غسل کے نماز پڑھے. اس صورت میں اگر تیمم کر کے نماز پڑھی تو سخت گناہ گار ہوگا. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ ١٧١

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh