صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1203 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,767

سوال (Question):

غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غسل کے وقت پانی کے قطرے بالٹی میں پڑیں تو کیا حکم ہے؟

سوال : زید بالٹی وغیرہ میں غسل کرنے سے پرہیز کرتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ٹب میں غسل کرنے سے جسم پر پانی ڈالتے وقت استعمال شدہ پانی کے قطرے ٹب یا بالٹی میں گرتے ہیں جس سے یہ پانی پاک کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے اس لیے بہتر ہے کہ شاور کے ذریعے غسل کیا جائے. جبکہ عمرو کا کہنا ہے کہ غسل کرتے وقت ہے جو قطرات جسم سے ٹکرانے کے بعد ٹب وغیرہ میں گرتے ہیں اس سے ٹب یا بالٹی کا پانی پاک ہی رہتا ہے اس لئے غسل کرنا درست ہے دونوں میں سے کس کے قول پر عمل کیا جائے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــ عمرو کا قول صحیح کہ ٹب یا بالٹی کا پانی پاک رہتا ہے اس سے غسل کرنا درست ہے گو کہ وقت غسل مستعمل پانی کے قطرات ٹب یا بالٹی میں پڑتے ہوں اس لیے کہ مستعمل پانی اگر اچھے پانی میں مل جائے مثلا وضو یا غسل کرتے وقت قطرے لوٹے یا ٹب میں ٹپکیں تو حکم یہ ہے کہ اچھا پانی اگر زیادہ ہو تو یہ وضو اور غسل کے قابل ہے ورنہ سب بے کار ہو گیا ایسا ہی بہار شریعت جلد 2 صفحہ 49 پر ہے. در مختار میں ہے ” یرفع الحدث بماء مطلق لا بماء مغلوب کمستعمل فباالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطھیر بالکل ” (ج١ صفحہ ١٧١) ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت ٹب یا بالٹی کا پانی مستعمل پانی سے عموما زائد ہی ہوتا ہے اس لئے اس سے وضو اور غسل جائز ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد احمد مصباحی الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh