غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
سوال (Question):
کیا فرماتے ہیں اہلِ علم اس بارے میں کچھ کتابوں میں غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک کرامت لکھی جس کا مضمون کچھ یوں ہے کہ غوث پاک کے ایک خادم کی موت ہو گئی موت ہونے کے بعد ان کی بیوی یا بیٹی غوث اعظم کے پاس آ کر فریاد کی تو غوث اعظم نے انکھیں بند فرمائی اور عزرائیل علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ روح لے کر جا رہے تھے ان سے کہا کہ میرے خادم کی روح واپس کرو انکار کیا تو غوث اعظم نے ان سے روحوں والا تھیلا چھین لیا اور ساری روحوں کو جو اس تھیلے میں تھی ان کو ازاد کروا دیا اب پوچھنا یہ ہے کیا غوث پاک کی طرف اس کرامت کی نسبت کرنا صحیح ہے یا نہیں اور جن کتابوں کے اندر لکھا ہے کیا ان کا پڑھنا صحیح ہے یا نہیں اہل علم اس پر روشنی ڈالیں۔
المستفتی:(حافظ)محمد اشتیاق قادری تھنہ منڈی
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
باسمه تعالى وتقدس الجواب بعون الملك الوهاب:
صورت مسؤلہ میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ من گھڑت اور کفریہ ہے اس طرح کے کفریہ واقعہ کو معاذاللہ کرامت کہہ کر سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب کرنا ہرگز ہرگز صحیح نہیں بلکہ اس(منسوب کرنے) میں سرکار کی سخت توہین وبے ادبی ہے،
اعلی حضرت امام اہل سنت اس من گھڑت واقعہ کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:
” اور دوسری روایت ابلیس کی گڑھی ہوئی ہے اور اس کا پڑھنا اور سننا دونوں حرام۔ احمق، جاہل بے ادب نے یہ جانا کہ وہ اس میں حضور سیدنا غوث اعظم رضی الله تعالیٰ عنہ کی تعظیم کرتا ہے حالانکہ وہ حضور کی سخت توہین کر رہا ہے، کسی عالم مسلمان کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوگی کہ معاذ الله اسے کفر کی طرف نسبت کیا جائے نہ کہ محبوبان الٰہی سیدنا عزرائیل علیہ السلام مرسلین ملائکہ میں سے ہیں اور مرسلین ملائکہ بالاجماع تمام غیر انبیاء سے افضل ہیں کسی رسول کے ساتھ ایسی حرکت کرنا توہین رسول کے سبب معاذ الله اس کے لئے باعث کفر ہے، الله تعالیٰ جہالت و ضلالت سے پناہ دے “( فتاوی رضویہ مترجم، ج ۲۹ ص ۶۳۰ تا ۶۳۱/ ناشر:رضا اکیڈمی،ممبئی)
نیز تحریر فرماتے ہیں:
” زنبیل ارواح (روحوں کا تھیلا) چھین لینا خرافات مخترعہ جہال سے ہے۔ سیدنا عزرائیل علیہ الصلوۃ والسلام رسل ملائکہ سے ہیں اور رسل ملائکہ اولیاء بشر سے بالاجماع افضل۔ تو مسلمانوں کو ایسے اباطیل واہیہ سے احتراز لازم “(حوالہ سابق/ ج ۲۸/ص ۴۱۸ تا ۴۱۹)
جن کتابوں میں اسی طرح کے من گھڑت واقعات بھرے پڑے ہیں انہیں پڑھنے سے گریز کیا جائے، سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات مبارکہ کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انہی کتابوں کو پڑھیں جن کو علماء محققین نے معتبر ومستند قرار دیا ہے جیسے کہ امام اہل سنت قدس سرہ العزیز کتاب مستطاب بھجۃ الاسرار شریف اورمصنف کتاب امام ابو الحسن علی نور الدین رحمہ اللہ تعالی کے بارے میں اکابرین وعمائدین اہل سنت کے اقوال نقل کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: “الحمدللہ ان عبارات ائمہ واکابر سے واضح ہوا کہ امام ابو الحسن علی نور الدین مصنف کتاب مستطاب بہجۃ الاسرار امام اجل امام یکتا محقق بارع فقیہ شیخ القراء منجملہ مشاہیر مشائخ وعلما ہیں اور یہ کتاب مستطاب معتبر ومعتمد کہ اکابر ائمہ نے اس سے استناد کیا اور کتب حدیث کی طرح اس کی اجازتیں لیں دیں۔ کتب مناقب سرکار غوثیت میں باعتبار علو اسانید اسکا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں موطائے امام مالک کا۔ اور کتب مناقب اولیاء میں باعتبار صحت اسانید اسکا وہ مرتبہ ہے جو کتب حدیث میں صحیح بخاری کا بلکہ صحاح میں بعض شاذ بھی ہوتی ہیں اور اس میں کوئی حدیث شاذ بھی نہیں امام بخاری نے صرف صحت کا التزام کیا اور ان امام جلیل نے صحت وعدم شذوذ دونوں کا اور بشہادت علامہ عمر حلبی وہ التزام تام ہوا کہ اسکی ہر حدیث کے لیے متعدد متابع موجود ہیں”( فتاوی رضویہ قدیم، ج ۱۲ ص ۲۳۶/کتاب الشتی)والله سبحانه وتعالى أعلم
کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمیؔ غفرلہ خادم دار العلوم رضویہ اشرفیہ ایتی راجوری جموں وکشمیر
۲۳/ربیع الآخر ۱۴۴۷ھ مطابق ۱۷/اکتوبر ۲۰۲۵ء
الجواب صحیح
محمد نظام الدین قادری خادم درس وافتا دار العلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی
الجواب صحیح والمجیب نجیح
محمد عارف قادری نعیمی عفی عنہ
خادم التدریس والافتاء جامعہ حنفیہ نظامیہ حنفی نگر ایتی راجوری