صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1411 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,564

سوال (Question):

غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟ از علامہ کمال احمد علیمی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غیر مسلم سے مردار جانور بیچنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید بکریوں کا کاروبار کرتاہے ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل کر نے کی وجہ سے کچھ جانور مرجاتے ہیں تو کیا ان مرےہوئے جانوروں کو زید کسی غیر مسلم کے ہاتھوں فروخت کر سکتا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم اپنی ضروریات کے لیے استعمال کرسکتا ہے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔ سائل حافظ محمد ضیاء الحق رضوی ممبئی الجواب بعون الملک الوھاب مرے ہوئے جانور کو غیر مسلم سے بیچ کر اس کی رقم استعمال میں لانا جائز ہے. بہار شریعت میں ہے: عقد فاسد کے ذریعہ سے کافر حربی کا مال حاصل کرنا ممنوع نہیں یعنی جو عقد مابین دو مسلمان ممنوع ہے اگر حربی کے ساتھ کیا جائے تو منع نہیں مگر شرط یہ ہے کہ وہ عقد مسلم کے لیے مفید ہو مثلاً ایک روپیہ کے بدلے میں دو روپے خریدے یااُس کے ہاتھ مُردار کو بیچ ڈالا کہ اس طریقہ سے مسلمان کا روپیہ حاصل کرنا شرع کے خلاف اور حرام ہے اور کافر سے حاصل کرناجائز ہے۔(حصہ یازدہم، ص ٧٨٠) واللہ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٥ رجب / ١٤٤٣ – ١٧ فروری ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh