Fatwa #1985
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
غیر مسلم سے مچھلی خریدنا کیسا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
11,600
سوال (Question):
غیر مسلم سے مچھلی خریدنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
غیر مسلم سے مچھلی خریدنا کیسا ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ غیر مسلم سے مچھلی خرید کر کھانا جائز ہے یا نہیں؟ سائلہ :بنت عباس اَلْجَــــــــــــــــــوَاب مذکورہ صورت میں غیر مسلم سے مچھلی خرید کر کھانا بالکل جائز ہے چاہے اس نے خود شکار کیا ہو یا اس کے ہاتھوں میں مرگئ ہو کیونکہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں ہے- (سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال ہوا کہ جس شخص کے ہاتھ کا ذبح ناجائز ہے جیسے کہ ہنود، اس کے ہاتھ کی پکڑی مچھلی کھانا کیسا ہے؟ تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً تحریر فرمایا: جائز ہے، اگرچہ اس کے ہاتھ میں مرگئی یا اس نے مار ڈالی ہو کہ مچھلی میں ذبح شرط نہیں، جس میں مسلمان یا کتابی ہونا ضروری ہو- (فتاویٰ رضویہ جلد20،صفحہ، 323- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ کتبــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی عفی عنہ
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh