صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1729 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,513

سوال (Question):

غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

غیر مقلد عورت کے نکاح پڑھانے والے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں: زید حافظ قران ہے اور محلے کا امام بھی ہے اس نے ہندہ کا نکاح یہ جانتے ہوئے پڑھا دیا کہ یہ اہل حدیث ہے قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس نے ایک بار اور پڑھایا تھا تو اس کو ایک مفتی صاحب کا فتویٰ پڑھ کر سنایا گیا تھا لیکن اس نے اس پر عمل نہیں کیا اور پڑھا دیا اب زید پر کیا کیا حکم صادر ہوتا ہے؟ براۓ کرم قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی روشنی جواب مرحمت فرمائیں: المستفتی: محمد نوری منظری الجواب: اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے اپنے فتاوی میں علمائے حرمین طیبین کے حوالہ سے جا بجا وہابیہ غیر مقلدین کی تکفیر کی ہے۔اس لیے جو ان کو مسلمان سمجھ کر ان کا نکاح پڑھائے گا خود کافر ہوجائے گا۔ اور اگر کافر سمجھتے ہوئے نذرانہ وغیرہ کسی دنیاوی طمع میں نکاح پڑھایا تو گنہگار ہے اور جب وہ متعدد بار ایسا کرچکا ہے تو اس کو امام نہ بنایا جائے ۔ ہاں! سچی توبہ اور اصلاح حال کے بعد امام بنایا جاسکتا ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “وہابیہ کفار مرتدین ہیں جیسا کہ علمائے حرمین شریفین کے فتوے ” حسام الحرمین” سے ظاہر ہے۔” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٢٦٧) نیز تحریر فرماتے ہیں: “اب کبرائے وہابیہ نے کھلے کھلے ضروریاتِ دین کا انکار کیا اور تمام وہابیہ اُس میں اُن کے موافق یا کم از کم اُن کے حامی یا اُنھیں مسلمان جاننے والے ہیں اور یہ سب صریح کفر ہیں،تو اب وہابیہ میں کوئی ایسا نہ رہا جس کی بدعت کفر سے گری ہوئی ہو خواہ غیر مقلد ہو یا بظاہر مقلّد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص١٧٠) اور تحریر فرماتے ہیں: “غیرمقلدین زمانہ بحکم فقہا وتصریحات عامہ کتب فقہ کافر تھے ہی، جس کا روشن بیان رسالہ الکوکبۃ الشھابیۃ ورسالہ السیوف ورسالہ النھی الاکید وغیرہا میں ہے اور تجربہ نے ثابت کردیا کہ وہ ضرور منکران ضروریات دین ہیں اور ان کے منکروں کے حامی وہمراہ، تویقینا قطعاً اجماعاً ان کے کفروارتداد میں شک نہیں۔” (فتاوی رضویہ ج٣ص٣۵۵) اور تحریر فرماتے ہیں: “اور اگر وہابیہ کو کافرجانتا ہے تو ان سے میل جول کے باعث جس میں سب سے بدتر اُن سے پڑھنا ہے سخت فاسق ہے امامت کے قابل نہیں، نماز اس کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوگی۔” (فتاوی رضویہ ج ۴ ص٣٧۴) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh