صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1197 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

فاسق کو گم راہ کہنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 4,131

سوال (Question):

فاسق کو گم راہ کہنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فاسق کو گم راہ کہنا کیسا ہے ؟ از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ایک شخص جو کہ سید صاحب ہیں مگر 3 تین تین چار چار انگوٹھیاں پہنتے ہیں ۔ بے پردہ اجنبیہ عورتوں سے ملتے ہیں اور مرید کرتے ہیں ۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو گمراہ کہ سکتے ہیں یا نہیں اور اگر کسی نے گمراہ کہا تو کہنے والے پر حکم شرع کیا عائد ہوتا ہے اور گمراہ کہنے والا ایک مسجد کا امام بھی ہے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کرم ہوگا ۔ المستفتی فریاد خان نظامی واپی گجرات ۔ الجواب بعون الملک الوھاب سوال میں مذکور سید صاحب کے بارے میں جو باتیں لکھی گئی ہیں ان سے آدمی فاسق ہوتا ہے، لیکن ان کی وجہ سے انہیں گم راہ کہنا درست نہیں.اس لیے کہ گم راہی کا ثبوت ضروریاتِ عقائدِ اہلِ سنت میں سے کسی امرِ ضروری بدیہی کے انکار کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں فاسق کی یہ تعریف کی گئی ہے: “والفسق لغةً: خروج عن الاستقامة وهو معنى قولهم: خروج الشيء عن الشيء على وجه الفساد. وشرعًا: خروج عن طاعة الله تعالى بارتكاب كبيرة. قال القهستاني أي أو إصرار على صغيرة. (١/ ٣٠٣) فتح الباری شرح بخاری میں ہے: ” الفِسْقُ في اللُّغةِ الخروجُ، وفي الشَّرعِ الخروجُ عن طاعةِ اللهِ ورَسولِه، وهو في عُرفِ الشَّرعِ أشَدُّ من العصيانِ” ((فتح الباري ١/ ١١٢) فتاوی رضویہ میں امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمۃ کافر اور گم راہ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : “ایک ضروریات دین ان کا منکر بلکہ ان میں ادنی شک کرنے والا بالیقین کافر ہوتا ہے ایسا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر،دوم ضروریات عقائد اہل سنت، ان کا منکر بدمذہب گمراہ ہوتا ہے، ملخصاً(فتاوی رضویہ مترجم ٢٩/ ٤١٤) مزید فرماتے ہیں: ” ہاں، جو مذہب دین اسلام کی ضروری باتوں سے کسی بات میں شک نہ کرتا ہو، صرف ان سے نیچے درجہ کے عقیدوں میں مخالف ہوں، جیسے رافضیوں میں تفضیلی، یا وہابیوں میں اسحاقی وغیرہم وہ اگر چہ گمراہ ہے کافر نہیں اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے،ملخصاً (فتاوی رضویہ مترجم ٢٠/ ٢٤٦) جس نے سید صاحب کو گم راہ کہا ہے اگر یہ اعتقاد رکھتے ہوئے کہاہے کہ واقعی سید صاحب گمراہ ہیں تو کہنے والا خود گم راہ قرار دیا جائے گا اور اگر گالی یا زجر و توبیخ کے طور پر کہا ہے تو بھی گناہ کیا قائل پر توبہ اور جس کے بارے میں کہا ہے اس سے معافی مانگنا لازم ہے. حدیث شریف میں ہے : ‘لا یرمي رجلٌ رجلاً بالفسوق ولا یرمیه بالکفر إلا ارتدت علیه إن لم یکن صاحبه کذلک” ۔ (صحیح البخاري، باب ما ینهی عن السباب واللعن، ۲؍۸۹۳رقم:۵۸۱۰) فتاوی تاتار خانیہ میں ہے: “ولوقال لمسلم أجنبي: یا کافر، أو لأجنبیة: یاکافرة، ولم یقل المخاطب شیئاً، أو قال لامرأته: یا کافرة ولم تقل المرأة شیئاً … والمختار للفتوی في جنس هذه المسائل: أن القائل بمثل هذه المقالات إن کان أراد الشتم ولایعتقده کافراً لایکفر، وإن کان یعتقده کافراً فخاطبه بهذا بناءً علی اعتقاده أنه کافر یکفر”. (الفتاوی التاتارخانیة ۵۱۳/۵) درمختار مع رد المحتار میں ہے: “(وعزر) الشاتم (بيا كافر) وهل يكفر إن اعتقد المسلم كافراً؟ نعم، وإلا لا، به يفتى، شرح وهبانية، ولو أجابه: لبيك، كفر، خلاصة. وفي التتارخانية: قيل: لايعزر ما لم يقل: يا كافر بالله؛ لأنه كافر بالطاغوت، فيكون محتملاً. (قوله: بيا كافر) لم يقيد بكون المشتوم بذلك مسلماً لما يذكره بعد (قوله: إن اعتقد المسلم كافراً نعم) أي يكفر إن اعتقده كافراً لا بسبب مكفر. قال في النهر: وفي الذخيرة: المختار للفتوى أنه إن أراد الشتم ولايعتقده كفراً لايكفر، وإن اعتقده كفراً فخاطبه بهذا بناءً على اعتقاده أنه كافر يكفر؛ لأنه لما اعتقد المسلم كافراً فقد اعتقد دين الإسلام كفراً”. (٤/ ٦٩) واللہ تعالی اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٨جمادی الآخرۃ ١٤٤٣ ء/ ٢٢جنوری٢٠٢٢ھ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh