Fatwa #889
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
فجر کی نماز میں جماعت کے وقت قرات سننا واجب ہے تو جو سنت میں مشغول ہو اس کا کیا حکم ہے
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
6,289
سوال (Question):
فجر کی نماز میں جماعت کے وقت قرات سننا واجب ہے تو جو سنت میں مشغول ہو اس کا کیا حکم ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
فجر کی نماز میں جماعت کے وقت قرات سننا واجب ہے تو جو سنت میں مشغول ہو اس کا کیا حکم ہے
سوال : زید کہتا ہے کہ فجر کی نماز میں جماعت کے وقت قرات سننا واجب ہے جبکہ کچھ لوگ اس وقت فجر کی سنت ادا کرتے ہیں تو یہ کہاں تک درست ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ ہر جہری نماز میں جب امام بلند آواز سے قرات کر رہا ہوں تو اس کو جو سن رہا ہو غور سے سننا واجب ہی نہیں بلکہ فرض ہے. اور جو لوگ دور ہوں سن نہیں پا رہے ہوں اور امام کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہوں ان پر خاموش رہنا فرض ہے. حدیث پاک میں خاص سنت فجر کے تعلق سے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ مسلم شریف میں ہے : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیھا ۔ اس لیے ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اگر جماعت فجر قائم ہو گئی اور کوئی تاخیر سے پہنچا اور ابھی اس نے سنت فجر ادا نہیں کی ہے تو جماعت سے دور کہیں مسجد کے کنارے کونے میں کھڑا ہوکر سنت فجر ادا کرے ۔ اور اس کے بعد آ کر جماعت میں شامل ہو جائے ۔ جماعت سے دور مسجد کے کنارے پڑھنے کی تاکید اسی لئے ہے تاکہ جماعت کی مخالفت اور استماع قرات کے ترک سے بچے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9