صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1896 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

فرض نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,249

سوال (Question):

فرض نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فرض نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہونا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ حضرت مفتی صاحب قبلہ ہمارے یہاں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ امام صاحب جماعت کے وقت پر نہیں آتے تو کچھ لوگ یہ سوچھ کر کہ شاید امام صاحب نہ آئیں اور جماعت نہ ہو سکے تنہا فرض پڑھنا شروع کردیتے ہیں پھر ان کے نیت باندھنے یا ایک رکعت یا دو رکعت پڑھنے کے بعد اگر امام صاحب آجاتے ہیں تو جماعت کھڑی ہوجاتی ہے تو کیا یہ لوگ نماز توڑ کر جماعت میں شا مل ہوجائیں یا تنہا ہی اپنی نماز پوری کرلیں بینوا توجروا۔ المستفتی: عبداللہ سدھارتھ نگر یوپی انڈیا بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب-بعون الملک الوھاب- جس نے تنہافرض شروع کردیا اور ابھی پہلی رکعت کاسجدہ نہ کیا تو اسے شرع مطہر مطلقا حکم فرماتی ہے کہ نیت توڑدے اور جماعت میں شامل ہوجائے بلکہ مغرب وفجر میں تو جب تک دوسری رکعت کاسجدہ نہ کیا ہو حکم ہے کہ نیت توڑکرمل جائے اور باقی تین نمازوں میں دوبھی پڑھ چکا ہوتو انہیں نفل ٹھہراکر جب تک تیسری کاسجدہ نہ کیا ہو شریک ہوجائے۔ ایسا ہی فتاوی رضویہ جدید ج٧ ص٢١٤ ، کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، میں ہے (مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) تنویر الابصار میں ہے: “شرع فیھا اداء منفردا ثم اقیمت یقطعھا قائما بتسلیمۃ واحدۃ ویقتدی بالامام ان لم یقید الرکعۃ الاولی بسجدۃ اوقیدھا فی غیرر باعیۃ اوفیھا وضم الیھا اخری وان صلی ثلثا منھا اتم ثم اقتدی متنفلا ویدرک فضیلۃ الجماعۃ الافی العصر ” اھ (تنویر الابصار مع الدر المختار، ص٩٥، کتاب الصلاۃ، باب ادارک الفریضۃ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان) یعنی کسی نے تنہا نماز اداکرنا شروع کی پھر اسی فرض کی جماعت کھڑی ہوگئی تو کھڑے کھڑے ایک طرف سلام پھیر کر امام کی اقتداء کرے اگرچہ پہلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو یا کرلیا ہو چار رکعت والی نماز کے علاوہ میں اور چار رکعت والی میں اگرچہ دوسری بھی ملا لیا ہو اور چار رکعت والی میں تیسری پڑھ لی تو پوری پڑھے پھر نفل کے نیت سے اقتدا کرے تو جماعت کے فضیلت کو پالے گا سوائے عصر کے (یعنی عصر پڑھ چکا تو نفل کی نیت سے جماعت میں شامل ہو) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh