Fatwa #1168
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,626
سوال (Question):
فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
فی زمانہ بینک میں جمع شدہ اپنی رقم کا نفع لینا جائز ہے یا نہیں ؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفرہ میں وہ رقم جائز ہے اس کا لینا جائز ہے وہ شرعا سود نہیں کہ سود کے لیے مال کا معصوم ہونا شرط ہے ۔ طحاوی علی الدر اور شامی میں ہے ” شرط بعصمۃ البدلین ” اور ہندوستان کے تمام کفار حربی ہیں اور حربی کا مال حصہ معصوم نہیں بلکہ وہ مباح ہے بشرطیکہ ان کی رضا سے ہو ۔ بدعہدی نہ ہو ۔ لہذا وہ بینک جو خالص غیرمسلموں کے ہیں ان میں روپیہ جمع کرنے پر جو زیادتی ملتی ہے اس کا لینا جائز ہے کہ وہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں اور لینے میں اپنی عزت اور آبرو کے لیے کوئی خطرہ بھی نہیں ہے وہ رقم کسی کے سود کہہ دینے سے سود نہ ہوگی اسے اپنے ہر جائز کام میں استعمال کر سکتا ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9