صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1254 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قبر میں اتارنے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,809

سوال (Question):

قبر میں اتارنے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قبر میں اتارنے کے بعد میت کا چہرہ دیکھنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ میت کا کوئی رشتہ دار میت کا منہ دیکھنے سے رہ گیا ہو تو میت کو قبر میں اتار نے کے بعد منہ دکھاتے ہیں یہ طریقہ کیسا ہے ؟ سائل سید شمس الدین گجرات انڈیا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب بعد نماز جنازہ قبل دفن چہرہ میت دیکھنا دکھانا جائز ہے ۔ فتاوی فیض الرسول میں ہے :” جس طرح نماز جنازہ سے پہلے میت کاچہرہ دیکھنا جائز ہے ایسے ہی نماز جنازہ کے بعد بھی دیکھنا جائز ہے ” اھ ( ج ١ ص ٤١٥ کتاب الجنائز ) البتہ اس سے احتراز کرنا چاہئے کہ تدفین میں تاخیر ہوگی اور شریعت مطہرہ میں تعجیل تدفین حد درجہ مطلوب ہے ۔ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:” (قوله: ويسرع في جهازه)؛ لما رواه أبو داود عنه صلى الله عليه وسلم لما عاد طلحة بن البراء وانصرف، قال: ما أرى طلحة إلا قد حدث فيه الموت، فإذا مات فآذنوني حتى أصلي عليه، وعجلوا به؛ فإنه لا ينبغي لجيفة مسلم أن تحبس بين ظهراني أهله». والصارف عن وجوب التعجيل الاحتياط للروح الشريفة؛ فإنه يحتمل الإغماء ” اھ ( ج: 3 ص: 83 ) یعنی میت کی تجہیز و تکفین میں جلدی کی جائے، اس حدیث کی بنا پر جو ابو داوٗد نے روایت کی ہے کہ جب حضورﷺ طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی عیادت کر کے واپس لوٹے تو آپ ﷺ نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ ان میں موت سرایت کر چکی ہے، جب ان کا انتقال ہوجائے تو مجھے خبر کر نا؛ تاکہ میں ان کی نماز پڑھاؤں اور ان کی تجہیز و تکفین میں جلدی کرو ، اس لیے کہ مسلمان کی نعش کے لیے مناسب نہیں ہے کہ اس کو اس کے گھر والوں کے درمیان روکا جائے”۔ اور میت پر موت کا اثر ظاہر ہوتے ہی فوراً تدفین اس لیے واجب نہیں کی گئی کہ کہیں یہ بے ہوشی نہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:” ویبادر إلی تجہیزہ ولا یوٴخر ” اھ ( ج: 1 ص: 157 ) سرکاراعلی حضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں : ” نماز جنازہ میں تعجیل نہایت درجہ مطلوب۔ صحاح ستہ میں ہے ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: اسرعوا بالجنازہ “ اھ ( فتاوی رضویہ ج ٩ ص ٣١٠ باب الجنائز ، رسالہ النھی الحاجز عن تکرار صلاۃ الجنائز ) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا 20 جمادی الاول 1443ھ مطابق 25 دسمبر 2021ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh