صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #478 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قبر میں تبرکات عہد نامہ رکھنا باعث برکت ہے از مفتی محمدرضا مرکزی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,547

سوال (Question):

قبر میں تبرکات عہد نامہ رکھنا باعث برکت ہے از مفتی محمدرضا مرکزی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قبر میں تبرکات عہد نامہ رکھنا باعث برکت ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

سوال : قبر میں عہد نامہ رکھنے سے متعلق شرعی حکم، طریقہ و مسائل کیا ھے ارشاد فرمائیں کرم ہوگا۔؟

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے ۔ اور بہتر یہ ہے کہ میت کے منہ کے سامنے قبلے کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں بلکہ’’ دُرِّمختار‘‘ میں کفن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے ۔ اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی اُمید ہے اور میّت کے سینے اور پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھناجائز ہے۔ ایک شخص نے اس کی وصیت کی تھی، انتقال کے بعد سینہ اور پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہِ  شریف لکھ دی گئی پھر کسی نے اُنہیں خواب میں دیکھا، حال پوچھا، کہا: جب میں قبر میں رکھا گیا، عذاب کے فرشتے آئے، فرشتوں نے جب پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہِ  شریف دیکھی کہا: تو عذاب سے بچ گیا ۔

(درالمختارمعہ ردالمحتار،کتاب الصلوۃ، باب صلاۃ الجنائز، ۳ / ۱۸۵)

یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پیشانی پر بِسْمِ اللّٰہِ شریف لکھیں اور سینے پر کلمہ طیبہ لَآاِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

(ردالمحتار،کتاب الصلوۃ،باب صلاۃ الجنائز، مطلب:فیما یکتب علی کفن المیت، ۳ / ۱۸۶)

 اگر گورکن قبر میں طاق کی ترکیب نہ بنائے تو یہ تبرکات کفن کے اوپررکھ سکتے ہیں ۔

(دارالافتاء اہلسنّت)

آپ میں سے جس سے بن پڑے وہ ضرور قبر میں عہد نامہ یا شجرہ شریف یا دونوں رکھ دے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی برکت سے آپ کے عزیز کی مشکلیں آسان ہو جائیں گی اور اسے قبر میں راحتیں نصیب ہوں گی..

قبر میں شجرہ یا عہد نامہ رکھنا جائز ہے کیو ں کہ اس سے بخشش کی امید ہے بہتر یہ ہے کہ میںت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کراس میں رکھے ۔

(ماخوذ ضیاء شریعت جلد اول صفحہ ۱۵۷)

اور فتاوی بحرالعلوم میں ہےشجرہ رکھنا جائز ہے ۔ لیکن سرہانے طاق کھود کر رکھا جائے تاکہ تلویث سے محفوظ رہے۔

جیساکہ درالمختار میں ہے کتب علی جبھۃ المیۃ او علی عمامتہ اوکفنہ عھدنامہ یرجی یغفراللہ اھ

((فتاوی بحرالعلوم جلد دوم صفحہ ۳۶))

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

مفتی محمدرضا مرکزی

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ

خادم التدریس والافتا

الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh