صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #537 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآنِ مجید کی آیات کو عربی کے علاوہ رومن انگلش میں لکھنا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 12,405

سوال (Question):

قرآنِ مجید کی آیات کو عربی کے علاوہ رومن انگلش میں لکھنا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآنِ مجید کی آیات کو عربی کے علاوہ رومن انگلش میں لکھنا کیسا ہے ؟

سائل : عمران عباس عطاری چکوال

بسمہ تعالیٰ

الجواب بعون الملک الوھّاب

اللھم ھدایۃ الحق و الصواب

قرآنِ مجید کی آیات کو رومن انگلش میں لکھنا ناجائز و حرام ہے۔

چنانچہ چنانچہ حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :

“ہندی یا انگریزی رسم الخط میں قرآن لکھنا تو صریح تحریف ہے کہ اولاً تو اوپر ذکر کی ہوئی پابندیوں کے خلاف ہے۔ دوم سین، صاد اور ثاء میں، اسی طرح ق اور ک میں، ز، ذ اور ظ میں بالکل فرق نہ ہو سکے گا مثلاً ظاہر کے معنی ہیں ظاہر اور زاہر کے معنی ہیں چمکدار یا تروتازہ۔ اب اگر آپ نے انگریزی میں zahir لکھا تو کیسے معلوم ہو کہ یہ ظاہر ہے یا زاہر۔ اسی طرح تاہر اور طاہر، قدیر اور قادر، سامع اور سمیع، عالم اور علیم میں کس طرح فرق رہے گا ؟ غرضیکہ اوصاف و الفاظ تو درکنار خود حروف ہی منقلب ہو جائیں گے اور معنیٰ ہی ختم۔”

(فتاوی نعیمیہ، صفحہ 116، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

 مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ 

 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh