صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1540 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآنِ  کریم پڑھ کر بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,934

سوال (Question):

قرآنِ  کریم پڑھ کر بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآنِ  کریم پڑھ کر بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس کے بارے میں جو شخص قرآن حفظ کیا اور اس کو بھول گیا تو قیامت میں اندھا اٹھایا جائے گا اب بات یہ ہے اکثر حافظ بھول جاتے ہیں جب یاد کرتے تب یاد ہو جاتا ہے بھول نے سے کیا مراد ہے حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں سائل واقف رضا کٹیہار بہار نحمدہ و نصلی علی رسولہ الامین وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــ  اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن شریف یاد کر کے بھول جانے والون پر حدیث پاک میں سخت وعید وارد ہے ۔ مشکوۃ شریف کی روایت میں ہے: عن سعد بن عبادة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: “ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم” . رواه أبو داود والدارمي”. حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآنِ  کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا/کوڑھی ہونے کی حالت میں  ہو گا۔ قرآن شریف کا چھونا پڑھنا بہت ثواب ہے اور اس پر عمل کرنا بہت ذیادہ ثواب کا مستحق ہے۔ اسی وجہ سے آقا علیہ السلام نے صحابہ کو سناتے حفظ کراتے جبریل علیہ السلام کے ذریعے قرآن دہروائے جاتے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: تَعَاهَدُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا. قرآن مجید کا پڑھتے رہنا اپنے اوپر لازم کر لو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ اونٹ کے اپنی رسی تڑوا کر بھاگ جانے سے زیادہ تیزی سے حافظے سے نکلتا ہے۔ اسی حکم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مثال کے ساتھ یوں سمجھایا: إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ کَمَثَلِ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَکَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ. قرآن مجید پڑھے ہوئے آدمی کی مثال اونٹوں کے مالک جیسی ہے جو بندھے ہوئے ہوں۔ اگر ان کی نگرانی کرے گا تو ٹھہرے رہیں گے اور اگر انہیں کھول دے گا تو چلے جائیں گے۔ (بخاري، الصحيح، 4: 1920، رقم: 4743، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة) اگر کوئی شخص اپنی کوتاہی، سستی اور غفلت کی وجہ سے بھول جائے‘ قرآنِ مجید کی تلاوت ترک کر دے تو بلاشبہ وہ سخت گناہگار ہے۔ کیونکہ اس نے قرآن مجید کیساتھ تعلق توڑ دیا اور کلام اللہ کی اہمیت کا عملاً انکار کر دیا۔ لیکن اگر وہ خود کوتاہی نہیں کرتا اور بشری کمزوری کی وجہ سے بھول جاتا تو کوئی گناہ نہیں۔ لیکن اس صورت میں بھی وہ قرآنِ مجید کی تلاوت ترک نہ کرے، بھول جانے والے حصے کو بار بار یاد کرنے کی کوشش کرتا رہے۔ جن احادیث میں قرآنِ مجید بھولنے پر وعید آئی ہے احناف کے نزدیک اس سے مراد اس طرح بھول جانا ہے کہ انسان الفاظ کی پہچان ہی بھول جائے اور ناظرہ بھی نہ پڑھ سکے۔ ملا علی قاری، مراة المفاتيح، کتاب فضائل قرآن، 2: 615 حدیث پاک میں ہے : روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پرمیری امت کے ثواب پیش کئے گئے حتی کہ وہ کوڑا جسے آدمی مسجدسے نکال دے اورمجھ پرمیری امت کے گناہ پیش کئے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہ دیکھا کہ کسی شخص کو قرآن کی سورہ یا آیت دی جائے پھر وہ اسے بھلا دے(ترمذی،ابوداؤد) خیال رہے کہ گناہ کبیرہ اور گناہ عظیم میں فرق ہے یہ بھول جانا گناہ عظیم ہے گناہ کبیرہ نہیں، (المرات ج ١ ص ٦٧٩مكتبة المدينة) والله ورسوله أعلم بالصواب كتبـــــــــه : عبده المذنب محمد مجيب قادري لهان ١٨خادم دارالافتاء البركاتي علماء فاونديشن ضلع سرهند نيبال

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh