صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #655 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآن خوانی کے لیے پیسہ فکس کرنا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,471

سوال (Question):

قرآن خوانی کے لیے پیسہ فکس کرنا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآن خوانی کے لیے پیسہ فکس کرنا کیسا ہے؟

السلام علیکم کیا فرماتے علماء دین مسئلہ ذیل میں ۱ ) کیا قرآن خوانی کے لئے پیسہ فکس کرنا جائز ہے مدرسے کے جملہ ممبران کا کہنا ہے ہے کہ اگر ہدیہ پانچ سو روپے کوئ دیگا تو اس کے یہاں قرآن خوانی ہوگی جو شخص نہیں دیگا تو نہیں ہوگی ۔ تو ایسے ممبران پر شریعت کا کیا حکم ہے رہنمائ فرمائیں ۔ ۲ ) اور زید کو قرآن خوانی میں بطور نذرانہ کچھ پیسہ ملا اور زید سے بکر(صاحب قرآن خوانی) نے یہ‌کہا کہ آپ کا نذرانہ ہے تو زید نے کہا کہ‌مدرسے کا ہدیہ تو بکر نے کہا کہ اسی میں جو چاہے آپ دےدیں تو زید نے آدھی رقم مدرسے کو دی اور آدھی رقم خود رکھی لیکن مدرسے کے ممبران کا کہنا ہے کہ‌ آپ کچھ نہیں لے سکتے ہیں بلکہ آپ کو پوری رقم دینی پڑیگی تو دریافت یہ کرنا ہے کہ کیا مدرسے کے ممبران کا ایسا کرنا جائز اور جو شخص ایسا کرے اس پر شریعت کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں ۔ فقط والسلام انور خان علیمی الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھاب قرآن خوانی کے لئے پیسہ طے کرنا جائز نہیں، لہذا مدرسہ کے ممبران کا مذکورہ قول غلط ہے. ردالمحتار میں ہے :فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلی المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلی جمع الدنيا – إنا لله وإنا إليه راجعون. (رد المحتار، كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة) اسی میں ہے : ولا یصح الاستئجار علی القراء ۃ وإہدائہا إلی المیت۔ وفیہ: إن القرآن بالأجرۃ لا یستحق الثواب لا للمیت ولا للقاري۔ (شامي / باب الإجارۃ الفاسدۃ ۶؍۵۶-۵۷ کراچی، ۹؍۷۷-۷۸ زکریا) العقود الدریہ میں ہے : ”نصوص المذھب من متون و شروح و فتاوی متفقۃ علی بطلان الاستئجار علی الطاعات ومنھا التلاوۃ کماسمعت الا مااستثناہ المتاخرون للضرورۃ کالتعلیم و الاذان و الامامۃ ولایصح الحاق التلاوۃ المجردۃ بالتعلیم لعدم الضرورۃ اذ لاضرورۃ داعیۃ الی الاستئجار علیھا بخلاف التعلیم لمافی الزیلعی وکثیر من الکتب لو لم یفتح لھم باب التعلیم بالاجر لذھب القرآن فافتوا بجوازہ ورأوہ حسنا۔اھ ولاشک ان المنع من الاستئجار علی التلاوۃ لاھداء ثوابھا الی المستاجر لیس فیہ ذھاب القرآن فلایصح قیاسھا علی التعليم ۔(العقود الدریہ ،جلد 2،صفحہ218،219،مطبوعہ کراچی ) سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ ارشاد فرماتے ہیں :”اصل یہ ہے کہ طاعت و عبادات پر اجرت لینا دینا (سوائے تعلیمِ قرآن عظیم وعلومِ دین و اذان و امامت وغیرہا معدودے چند اشیاء کہ جن پر اجارہ کرنا متاخرین نے بناچاری و مجبوری بنظر حال زمانہ جائز رکھا )مطلقاً حرام ہے اور تلاوتِ قرآن عظیم بغرض ایصال ثواب ۔۔۔ ضرور منجملہ عبادات و طاعت ہیں ، تو ان پر اجارہ بھی ضرور حرام و محذور اور اجارہ جس طرح صریح عقد زبان سے ہوتا ہے،عرفاً شرط معروف ومعہود سے بھی ہوجاتا ہے ۔ مثلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا ، مگر جانتے ہیں کہ دینا ہوگا ،وہ سمجھ رہے ہیں کہ کچھ ملے گا،انہوں نے اس طور پر پڑھا، انہوں نے اس نیت سے پڑھوایا، اجارہ ہوگیا اور اب دو وجہ سے حرام ہوا: ایک تو طاعت پر اجارہ یہ خود حرام ،دوسرے اجرت اگر عرفاً معین نہیں ، تو اس کی جہالت سے اجارہ فاسد ، یہ دوسرا حرام ۔ ای ان الاجارۃ باطلۃ و علی فرض الانعقاد فاسدۃ فللتحریم وجھان متعاقبان وذلک لما نصوا قاطبۃ ان المعھود عرفاً کالمشروط لفظاً۔(یعنی حقیقت میں تو یہ اجارہ باطل ہے ، لیکن اگر منعقد فرض کرلیا جائے ، تو فاسد ہے ، تو یکے بعد دیگرے اس کے حرام ہونے کی دو وجہیں ہیں اور یہ اس لیے کہ تمام فقہا کی نص ہے کہ عرف میں مشہور و مسلم لفظوں میں مشروط کی طرح ہے )پس اگر قرار داد کچھ نہ ہو ،نہ وہاں لین دین معہود ہوتا ہو ، تو بعد کو بطور صلہ و حسن سلوک کچھ دے دینا جائز بلکہ حسن ہوتا ،مگر جبکہ اس طریقہ کا وہاں عام رواج ہے،تو صورت ثانیہ میں داخل ہوکر حرام محض ہے ۔ (ملخصاً۔ فتاوی رضویہ ، جلد 19،صفحہ486،487،رضا فاؤنڈیشن ،لاھور ) ٢) زید نے جو نذرانہ پایا اس کی ملکیت ہے، اس میں سے جتنی رقم مدرسے میں بخوشی دے مدرسے کو لے لینا چاہیے،ممبران مدرسہ کا زید کو پوری رقم دینے پر مجبور کرنا جائز نہیں ۔ عنایہ شرح ہدایہ میں ہے: الْهِبَةُ عَقْدٌ مَشْرُوعٌ لِقَوْلِهِ – عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ – «تَهَادَوْا تَحَابُّوا» وَعَلَى ذَلِكَ انْعَقَدَ الْإِجْمَاعُ (وَتَصِحُّ بِالْإِيجَابِ وَالْقَبُولِ وَالْقَبْضِ) أَمَّا الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ فَلِأَنَّهُ عَقْدٌ، وَالْعَقْدُ يَنْعَقِدُ بِالْإِيجَابِ، وَالْقَبُولِ، وَالْقَبْضُ لَا بُدَّ مِنْهُ لِثُبُوتِ الْمَلِكِ”.(٩/ ١٩) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ :مفتی کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی ١٢ربیع الثانی ١٤٤٣ ھ/ ١٨ نومبر ٢٠٢١ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh