صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1554 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,577

سوال (Question):

قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب غلط کام نہں کروں گا پھر کیا تو ؟

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے اہلسنت اس مسئلہ میں زید نے قسم کھائی قرآن پر ہاتھ رکھ کر اب غلط کام نہیں کروں گا زید نے غلط کیا زید پر کفارہ لازم آئے گا نہیں۔ سائل:-۔ محمد عابد رضا نظامی مہراجگنج ۔ الجواب بتوفیق الملک الوہاب  صورت مسئولہ میں زید نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر قرآن مجید کی قسم کھائی تو یہ شرعا قسم ہے توڑنے کی بنا پر کفارہ واجب ہوگا اس لیے کہ قرآن شریف کی قسم پہلے متعارف نہ تھی۔ جیسا کہ صاحب ھدایہ نے اس کی تعلیل میں فرمایا ” لانہ غیر متعارف ” لیکن اب اس کی قسم متعارف ہے اس لئے قرآن مجید کی قسم جمہور کے نزدیک شرعی قسم ہے اور اس پر شرعی قسم کے احکام مرتب ہونگے ۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “فتاوی رضویہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ قرآن مجید کی قسم شرعا قسم ہے فی الدر المختار ” قال الکمال لا یخفی ان الحلف بالقرآن الآن متعارف فیکون یمینا انتھی، اسی میں ہے ” الایمان مبنیة علی العرف فما تعورف الحلف بہ فیمین ومالا فلا انتھے ۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج،٥ ،ص،٣٣٣،باب الایمان ،طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی) اور بہار شریعت میں ہے قرآن کی قسم کلام اللہ کی قسم ان الفاظ سے بھی قسم ہو جاتی ہے۔ (بہار شریعت،ج،٢،ح،نہم،ص،٣٠١،قسم کا بیان،مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی) ہاں اگر زید قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ ایسا نہیں کرونگا اور پھر کیا تو کفارہ نہیں نہ ہی یہ شرعا قسم ہے۔ جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “فتاوی رضویہ” میں تحریر فرماتے ہیں کہ کلام اللہ اللہ عزوجل کی صفت قدیمہ ہے صفات الہیہ عین ذات ہیں نہ غیر ذات کلام اللہ کی قسم ضرور حلف شرعی ہے ” لانہ من صفاتہ وقد تعورف الحلف بہ فکان کالحلف بعزتہ وعظمتہ وجلالہ لا کا لحلف برحمتہ وجودہ وکرمہ لعدم التعارف وھذا ھو منات الحلف الشرعی کما فی الدر المختار وغیرہ” ہاں مصحف شریف ہاتھ میں لیکر یا اس پر ہاتھ رکھ کر کوئی بات کہنی اگر لفظا حلف وقسم کے ساتھ نہ ہو حلف شرعی نہ ہوگا مثلا کہے کہ میں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوں کہ ایسا کام کرونگا اور پھر نہ کیا تو کفارہ نہ آئے گا۔ (فتاوی رضویہ قدیم ،ج،٥ ،ص،٣٦٠،باب الایمان ،طابع وناشر دارالعلوم امجدیہ مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ کراچی) واللہ تعالی ورسولہ اعلم بالصواب، کتبـــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh