صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #928 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآن کو ناقص کہنا اور اس میں تغیر و تبدل ماننا کیسا ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 10,794

سوال (Question):

قرآن کو ناقص کہنا اور اس میں تغیر و تبدل ماننا کیسا ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآن کو ناقص کہنا اور اس میں تغیر و تبدل ماننا کیسا ہے ؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک پیر جی اپنے مریدوں کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ قرآن کے چالیس پارے تھا. دس پارہ فقیروں نے چاٹ لیا ہے آیا اس پیر جی کے متعلق شریعت و معرفت میں کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلیل و توجروا. الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــــ وہ جاھل پیر روافض کا ہمنوا ہوں و ہمسر ہے ۔ اس پر اپنے اس گندے عقیدے سے توبہ فرض ہے. بعد توبہ تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی اگر بیوی رکھتا ہوں کرے ۔ قرآن اللہ عزوجل کی وہ مبارک کتاب ہے جس میں کمی وبیشی تغیر و تبدل سے حفاظت و صیانت کا خود اسی نے اسی قرآن میں وعدہ فرمایا ہے ۔ (وانا لہ لحافظون) اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔ اور فرمایا (لا یاتیہ الباطل من بین یدیہ ولا من خلفہ) باطل کو اس کی طرف راہ نہیں نہ اس کے آگے سے نہ اس کے پیچھے سے ۔ اس جاھل نے روافض کی طرح بک کر کہ چالیس پارے تھے دس پارے کم ہوگئے قرآن کے محفوظ ہونے کا انکار کیا ۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم واللہ تعالی الھادی والموفق فتاویٰ مفتی اعظم ہند جلد دوم کتاب العقائد صفحہ 15

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh