صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2612 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرآن کو پھینکنے والے کا حکم ۔ از مفتی جلال الدین احمد امجدی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,680

سوال (Question):

قرآن کو پھینکنے والے کا حکم ۔ از مفتی جلال الدین احمد امجدی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرآن کو پھینکنے والے کا حکم ۔ از مفتی جلال الدین احمد امجدی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ہندہ قران شریف پڑھ رہی تھی شوہرکسی دوسری وجہ سے لڑنے لگا، جب دونوں میں تو تو میں میں بڑھ گئی تو ہندہ نے مارے غصے کے قران پاک پلنگ پر سے نیچے پھینک دیا ۔جس وقت قران پاک کو پھینکا اس وقت اس قدر غصے میں تھی کہ اس کے مخصوص اعضاء بھی کھلے ہوئے تھے ۔اب حضرت مفتی احمد یار خان صاحب نعیمی کی کتاب اسرار الاحکام بانوار القران کے صفحہ 100 سے 101 کے جوابات کو سامنے رکھ کر ہندہ پر کیا حکم ہوگا آسان صورت میں جواب سے نوازیں ۔ جواب: اگر ہندہ نے بنیت توہین قرآن مجید کو پلنگ سے نیچے پھینکا تو یہ کفر ہے اس عورت سے توبہ اور استغفار کرایا جائے اور اس کا نکاح پھر سے پڑھایا جائے اور اگر بنیت توہین نہیں پھینکا بلکہ شوہر پر غصہ آجانے کے سبب پھینکا اورصورت حال سے ظاہر یہی ہے تو اس صورت میں تجدید نکاح ضروری نہیں مگر توبہ اور استغفار لازم ہے۔اور اسے قرآن خوانی، مساکین کو کھانا کھلانے، اور مسجد میں لوٹا اور چٹائی رکھنے کی تلقین کی جائے کہ یہ چیزیں توبہ کی قبولیت میں معاون ہوں گی ۔اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے۔ان الحسنات یذہبن السیات ۔ نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: مفتی جلال الدین احمد امجدی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh