صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1816 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرأت ميں بھول جانے سے متعلق اہم مسئلہ

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 9,020

سوال (Question):

قرأت ميں بھول جانے سے متعلق اہم مسئلہ

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرأت ميں بھول جانے سے متعلق اہم مسئلہ

مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ امام نے سورہ رحمن کا ایک رکوع پڑھا پھر بھول گیا تو پیچھے سے تھوڑا سا پڑھا ہی تھا کہ اسے بھولی ہوئی آیت یاد آگئی تو اس کو چھوڑ کر آگے سے پڑھنے لگا جہاں سے بھولا تھا تو اس صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟ المستفتی محمد معین آنتی بڑودا گجرات انڈیا ۔ الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مسئولہ میں جب پیچھے سے پڑھنا شروع کردیا تھا تو اسے چھوڑ کر آگے پڑھنا جائز نہ تھا ہاں جب بقدر کفایت تلاوت کرچکا تو نماز ہوگئی اور بھولنے کے بعد بقدر ایک رکن کے سوچتا نہ رہاہو تو سجدۂ سہو بھی لازم نہیں۔ حضور اعلی حضرت رضی ﷲ تعالی عنہ سے سوال ہوا: “اول رکعت میں سورہ کفرون پڑھی دوسری میں کوثر کی ایک آیت پڑھی پھر اس کو چھوڑ کر اخلاص پڑھی ، ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اور نمازمیں کچھ خلل واقع ہوگا یا نہیں” جواباً تحریر فرمایا: ” نماز تو ہو گئی مگر ایسا کرنا ناجا ئز تھا ، جس سورت کا ایک لفظ زبان سے نکل جائے اسی کا پڑھنا لازم ہوجاتا ہے خواہ وہ قبل ہو یا بعد کی” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج٦, ص٣٥٢, کتاب الصلاۃ, باب القراۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) اسی میں ہے: “سجدہ سہو کی بھی حاجت نہ تھی اگر بقدر ادائے رکن سوچتا نہ رہا ہو، ہاں اگر بھولا اور سوچنے میں اتنی دیر خاموش رہا جس میں کوئی رکن نماز کا ادا ہوسکتا ہے تو سجدہ سہو لازم آیا” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج٦, ص٢٧٤, کتاب الصلاۃ, باب القراۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh