صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1067 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قراءت شروع کیا اور بھول گیا پھر دوسری جگہ سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,178

سوال (Question):

قراءت شروع کیا اور بھول گیا پھر دوسری جگہ سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قراءت شروع کیا اور بھول گیا پھر دوسری جگہ سے پڑھا تو نماز کا کیا حکم ہے ؟

سوال : زید نے مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بعد ” وقال الذین کفروا ” پڑھ کر اس کے بعد کے کلمات بھول گیا. فوراً ہی اس نے ” وقال ارکبوا فیھا بسم اللہ مجریھا ومرسھا ان ربی لغفور رحیم ” اور چند آیات کریمہ پڑھ کر رکوع میں چلا گیا. بعد نماز بکر نے کہا کہ نماز واجب الاعادہ ہے کیونکہ جس آیت کو پہلے شروع کیا تھا اس کا پڑھنا واجب ہے اور یہاں ترک واجب پایا گیا لہذا نماز پھر سے دہرائی جائے دریافت طلب امر یہ ہے کہ بکر کا یہ قول ازروئے شرع کیسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــ بکر کا قول صحیح نہیں اس لئے کہ زید بھول جانے کے سبب دوسری آیت کی طرف منتقل ہوا اور اس صورت میں نہ ترک واجب نہ کسی قسم کی کراہت جیساکہ فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ 125 میں ہے. واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 242

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh