Fatwa #1068
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh
تاریخ: September 18, 2025
0
8,286
سوال (Question):
قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قراءت میں ایسی غلطی ہوئ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر درست کر لیا تو کیا حکم ہے ؟
سوال : حالت نماز میں قرآن کریم پڑھتے ہوئے اگر ایسی غلطی ہوگئی کہ جس سے معنی فاسد ہو گیے مگر پھر خود بخود فورا درست کر لیا یا لقمہ دینے سے اصلاح کیا تو نماز باطل ہو یا صحیح ہوگئی؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــ جبکہ خود بخود درست کر لیا یا مقتدی کے لقمہ دینے سے اصلاح کر لی تو نماز صحیح ہوگئی باطل نہ ہوئی. فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 414 میں ہے” اگر امام نے ایسی غلطی کی جس سے نماز فاسد ہوگی تو لقمہ دینا فرض ہے نہ دے گا اور اس کی تصحیح نہ ہوگی تو سب کی نماز جاتی رہے گی. وھوسبحانہ و تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 243
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh