Fatwa #737
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
8,905
سوال (Question):
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قرض دئے ہو ے پیسوں پر زکوۃ کی نیت کرنا کیسا ہے ؟
سوال : زید نے اپنی پھوپھی کو ایک ہزار روپے قرض دیا لیکن اس نے قرض کی رقم واپس نہیں کی کیونکہ اس وقت تو اس کی حیثیت دینے کے لائق نہیں ہے زید نے سوچا کہ وہ پیسہ زکوۃ کے طور پر اسے دے دوں توکیا اس سے زیادہ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــ ایسا نہیں ہو سکتا کہ قرض کے طور پر دیا تھا اور اب زکوۃ کی نیت کر لے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے زکوٰۃ ایک عبادت ہے جس طرح نماز ایک عبادت ہے اور عبادت صحیح ہونے کے لئے وقت ادا نیت عبادت ضروری ہے اور یہاں تو وقت ادا نیت قرض تھی ۔ اگر کوئی نماز کی طرح اٹھک بیٹھک کرے اور نماز کی نیت نہ کرے تو اس کی نماز نہ ہوگی. اسی طرح سے کوئی رقم کسی محتاج فقیر کو دے دے اور دیتے وقت زکوۃ کی نیت نہ کرے تو زکوۃ ادا نہ ہوگی اور جس وقت دیا تھا اس وقت اس کی نیت زکوٰۃ کی نہ تھی اس لئے اس کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی ۔ ہاں اگر زیادہ چاہتا ہے کہ وہ روپیہ زکوۃ میں شمار ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ پھوپھی کو اپنے پاس سے زکوۃ کی نیت سے زکوٰۃ کا دوسرا مال دے دے اور جب پھوپھی اس پر قبضہ کرلے تو وہ ادائے قرض کی نیت سے زید کو واپس کر دے اور اگر وہ واپس نہ کرے تو زید اس کے ہاتھ سے اپنے قرض کی وصولی میں لے سکتا ہے اس طریقے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی اور اسے قرض کا روپیہ بھی مل جائے گا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9