صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1600 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 11,196

سوال (Question):

قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قرض دیئے گئے پیسہ کی زکاۃ کا حکم

سوال یہ ہے کہ زید نے بکر کو 25 ہزار روپیہ قرض دیا ہے اور بکر ابھی قرض واپس نہیں کیا ہے، کرے گا بھی تو ایک یا دو سال میں کرے گا، تو کیا زید نے جو قرض دیا ہے ان روپیوں کی بھی زکوٰۃ زید پر فرض ہے یا قرض ملنے کے بعد فرض ہوگی شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ العارض: محمد سعید علیمی . ساکن: بسڈیلہ پوسٹ چائی کلاں ضلع سنت کبیر نگر یوپی۔ باسمہ تعالی و تقدس الجواب بعون الملک الوھاب  جو مال قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی زکاۃ قرض دینے والے پر واجب ہے البتہ اس زکاۃ کی ادائے گی اس وقت واجب ہوگی جب وہ مال مل جائے اور اگر قرض ملنے سے پہلے ہی اس کی زکاۃ ادا کردی تو ادا ہوجائے گی فتاوی رضویہ میں ہے “جو روپیہ قرض میں پھیلا ہوا ہے اس کی بھی زکاۃ لازم ہے مگر جب بقدر نصاب یا خمس نصاب وصول ہوا اس وقت ادا واجب ہوگی جتنے برس گزرے ہوں سب کا حساب لگا کر”(ج ۴ ص ۴۳۲) اس ارشاد سے واضح ہوا کہ اگر زید مالک نصاب ہے تو اس نے جو قرض ۲۵ ہزار روپیہ دیا ہے اس کی زکاۃ فرض ہے البتہ ادا کرنا اس وقت ضروری ہے جب وہ روپیہ مل جائے۔ واللہ تعالی اعلم کتبہ: محمد اختر حسین قادری صدر شعبۂ افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی و قاضئ شہر ضلع خلیل آباد یوپی انڈیا ۱۹ رمضان المبارک ۱۴۴۲ھ

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh