قرض وصول کرتے وقت پانچ سو زیادہ لینا کیسا ہے؟ از مفتی محمد صدام حسین فیضی
سوال (Question):
قرض وصول کرتے وقت پانچ سو زیادہ لینا کیسا ہے؟ از مفتی محمد صدام حسین فیضی
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قرض وصول کرتے وقت پانچ سو زیادہ لینا کیسا ہے؟
محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔
زید نے بکر کو پانچ ہزار روپیہ قرض دیا بعد میں بکر اسے اپنی خوشی سے پانچ سو روپیہ زیادہ دیا زید کہتا ہے میں پانچ سو زیادہ نہیں لے سکتا یہ سود ہے میرے لئے جائز نہیں ہے لیکن بکر کہتا ہے میں اپنی خوشی سے دے رہا ہوں اس لئے آپ لے سکتے ہیں عرض یہ ہے کہ کیا زید وہ روپیہ لے سکتا ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔
المستفتی: محمد رضا بھاؤ نگر گجرات انڈیا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب -بعون الملک الوھاب-لے سکتا ہے اگر ادھار دیتے وقت پانچ سو زیادہ لینے کی شرط نہ لگائی ہو نہ ہی وہاں اس کا رواج ہو کہ زیادتی عقد میں مشروط نہ ہو نہ ہی اس کا رواج ہو کہ المعروف کالمشروط اور قرض لینے والا اپنی خوشی سے دے تو یہ سود نہیں اس کا لینا یقیناً جائز ہے۔
فتاوی امجدیہ میں ہے:
“سود اس زیادتی کو کہتے ہیں جو عقد میں مشروط ہو اور اگر عقد میں شرط نہ ہو وقت ادا کچھ زیادہ دیا تو یہ سود نہیں” اھ (ج٣، ص٢٠٦، مطبوعہ دائرۃ المعارف الامجدیہ گھوسی) واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب۔
کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی