صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #2798 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قرض پر زیادتی لینا کیسا ہے ؟باقر القادری اصغر امجدی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 5,902

سوال (Question):

قرض پر زیادتی لینا کیسا ہے ؟باقر القادری اصغر امجدی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

Qarz Par Zyadati Lena Kaisa Hai

السلام علیکم ورحمۃ ﷲتعالی وبرکاتہ مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علمائے ذی وقار مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ میں کہ: میرا ایک دوست بینک اکاؤنٹ سے روپے نکالنے کا کام کرتا ہے اور وہ اس کے عوض ہر کسٹومر سے ایک ہزار پر ۲۰ روپے لیتا ہے اس نے مجھ سے کہا آپ مجھے ۲۰ ہزار روپے دیجئے اور کسٹومر سے جو میں بیس روپے لونگا اس کا آدھا آپ کو دونگا اور وہ بیس ہزار میرے اکاؤنٹ میں واپس کر دے گا تو کیا میرا یہ آدھا روپیہ لینا جائز ہے۔المستفتی: ڈاکٹر محمد اکرم انصاری (پیلی بھیت) وعلیکم السلام ورحمۃﷲ تعالی وبرکاتہ
الجواب بعون الملک الوہاب:
اگر آپ کے دوست نے مل کر کاروبار کرنے کے لئے ۲۰ ہزار روپے کا مطالبہ کیا ہے کہ کچھ روپے میں اور کچھ آپ شامل کریں تاکہ شرکت میں کاروبار کریں اور جو نفع یا نقصان ہوگا وہ اپنے روپے کے اعتبار سے دونوں پر لازم آئے گا یا ایک کام کرے گا نفع دونوں لیں گے تو اس طرح آپ کا نفع کا آدھا روپیہ لینا جائز ہےـ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے: و لو شرط العمل علیھما جمیعا صحت الشرکۃ و ان قل رأس مال احدھما و کثر رأس مال الآخر و اشترطا الربح بینھما علی السواء او علی التفاضل فان الربح بینھما علی الشرط و الوضیعۃ ابداً علی قدر رؤوس اموالھما کذا فی السراج الوھاج، و ان عمل احدھما و لم یعمل الآخر بعذر او بغیر عذر صار کعملھما معاً کذا فی المضمرات، و لو شرطا کل الربح لاحدھما فانہ لا یجوز ھکذا فی النھر الفائق، اشترکا فجاء احدھما بالف و الآخر بالفین علی ان الربح و الوضیعۃ نصفان فالعقد جائز و الشرط فی حق الوضیعۃ باطل فان عمل و ربحا فالربح علی ما شرطا و ان خسرا فالخسران علی قدر رأس مالھما کذا فی محیط السرخی ۔(ج ۲، ص۳۳٦) حضور صدر الشریعہ نے فرمایا کہ: اگر دونوں نے اس طرح شرکت کی کہ مال دونوں کا ہوگا مگر کام فقط ایک ہی کرے گا اور نفع دونوں لیں گے اور نفع کی تقسیم مال کے حساب سے ہوگی یا برابر لیں گے یا کام کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو جائز ہے اور اگر کام نہ کرنے والے کو زیادہ ملے گا تو شرکت ناجائز ہے۔ (بہار شریعت، ج ۲، ص۵۰۳) آپ نے مزید فرمایا: ٹھہرا یہ تھا کہ کام دونوں کریں گے مگر صرف ایک نے کیا دوسرے نے بوجہ عذر یا بلا عذر کچھ نہ کیا تو دونوں کا کرنا قرار پائے گا۔*(بہار شریعت، ج ۲، ص۵۰۳) مال میں کمی زیادتی اور برابری اور نفع میں کمی بیشی بھی جائز ہے۔ جیسا کہ قدوری شریف میں مرقوم ہے: و یصح التفاضل فی المال و یصح ان یتساویا فی المال و یتفاضلا فی الربح۔(کتاب الشرکۃ، ص ۹۷) مگر نفع کو متعین کرنا جائز نہیں کہ بہار شریعت میں ہے: *اگر نفع کے روپے ایک شریک نے متعین کر دئے کہ مثلا دس روپے میں نفع لونگا تو شرکت فاسد ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کل نفع اتنا ہی ہو پھر شرکت کہاں ہوئی۔*(ج۲، ص۵۰۵) مگر صورت مسئولہ میں حالت قرض پائی جا رہی ہے کہ اس نے آپ کو روپے واپس بھی کر دئے تو اب اگر آپ اس سے روپے لیں گے تو گویا آپ اس سے قرض پر زیادتی مانگ رہے ہیں اور قرض پر زیادتی لینا مثل سود ہے۔ جیسا کہ فقہ کا جزیہ ہے:«کل قرض جرّ نفعاً فھو رباً یعنی جو قرض نفع پہنچائے وہ سود ہے اور سود کے متعلق ﷲ تعالی نے قرآن میں ارشاد فرمایا «وحرم الربا» یعنی ﷲ نے سود کو حرام کیا تو اس بنا پر آپ کا اس سے آدھا روپیہ لینا جائز نہیں ہے۔وﷲ اعلم بالصواب کتبہ: باقر القادری اصغر امجدی (پیلی بھیت) ۳جمادی الآخر ۱٤٤٥ھ م ۱۷ دسمبر ۲۰۲۳ء الجواب صحیح واللہ اعلم خلیفئہ تاج الشریعہ و گلزار ملت مفتی ابو الحسن قادری مصباحی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی صدر شعبہ افتاء و خادم التدریس طیبۃ العلماء جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی مئو

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh