Fatwa #1164
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
قریب قریب دو مسجدیں ہونے کی صورت میں کیا ایک اذان کافی ہوگی؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,150
سوال (Question):
قریب قریب دو مسجدیں ہونے کی صورت میں کیا ایک اذان کافی ہوگی؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قریب قریب دو مسجدیں ہونے کی صورت میں کیا ایک اذان کافی ہوگی؟
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ ایک گاٶں میں دو مسجد ہے ایک پرانی دوسری نٸی { مثلا ایک آگے دوسری بالکل آگے والے کے سامنے جانب مشرق} اور دونوں میں بعدیت بھی نہیں اور قرب اتنا کہ پرانی مسجد کا ماٸک نٸی مسجد کے چھت پر رکھا ہوا ہے مگر بوجہ اختلاف دونوں مسجدوں میں جماعت ہوتی ہے تو کیا ایک مسجد کی اذان دوسری میں کفایت کرے گی یا نہیں جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔ ساٸل: محمد حسن خان گونڈہ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــــ جب کہ دونوں مسجدوں میں باجماعت نماز ہوتی ہے تو ظاہر یہی ہے کہ ایک مسجد کی اذان دوسری مسجد کے لیے کفایت نہیں کرے گی، بلکہ دونوں مسجدوں میں نمازِ پنجگانہ باجماعت کے لیے الگ الگ اذان سنت موکدہ قریب بواجب ہوگا کہ اس کے بغیر جماعت کرنا مکروہ اور گناہ ہوگا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: “وَيُكْرَهُ أَدَاءُ الْمَكْتُوبَةِ بِالْجَمَاعَةِ فِي الْمَسْجِدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ” (فتاوی ہندیہ، کتاب الصلاة، الباب الثانی فی الاذان، الفصل الاول فی صفتہ واحوال الموذن) امام اہل سنت مجدد دین و ملت امام اجمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “مگر اس قدر بلاشبہہ ثابت کہ نماز پنجگانہ (عــہ۱) سے جونماز وقتی رجال احرار غیر عُراۃ مسجد میں باجماعت اداکریں اس کے لئے سوا بعض صور مستثناۃ(عــہ۲)کے وقت میں اذان کا پہلے ہولینا سنت مؤکدہ قریب بواجب ہے اور بے اس کےجماعت کرلینا مکروہ وگناہ ، یہاں تک کہ یہ جماعت شرعاً اصلاً معتبر نہیں اس کے بعد جو جماعت باذان واقامت ہوگی وہی پہلی جماعت ہوگی، بلکہ علماء فرماتے ہیں اگر کچھ لوگوں نے آہستہ اذان دے کر جماعت کرلی کہ آوازِ اذان اوروں کو نہ پہنچی تو ایسی جماعت بھی داخل شمار واعتبار نہیں۔” (رسالہ: القلادة المرصّعہ فی نحر الاجوبة الاربعہ، مشمولہ فتاوی رضویہ ج٣ ص ٣٢٧ ، ٣٢٨) ظاہر یہی ہے کہ یہ احکام ایک آبادی اور ایک محلہ کی دو مسجدوں کو بھی شامل ہیں۔ لیکن علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ نے محلہ کی ایک مسجد کو دو مسجد کرنے کی صورت میں دونوں مسجدوں کے لیے الگ الگ موذن کو صرف اولی قرار دیا ہے، اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “اشباہ میں ہے:لاھل المحلۃ جعل المسجد الواحد مسجدین والاولی ان یکون لکل طائفۃ مؤذن۔” اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر ایک محلہ کی دو مسجدوں کے لیے ایک موذن اور ایک اذان ہو تو زیادہ سے زیادہ یہ خلافِ اولی ہوگا، لیکن فقہائے کرام کا یہ بیان کہ مسجد میں بغیر اذان نمازِ پنجگانہ کی ادا جماعت مکروہ ہے اپنے عموم کی بنا پر ایک محلہ کی دو مسجدوں کو بھی شامل ہے، لہذا احتیاط یہی ہے کہ دونوں مسجدوں کی جماعت کے لیے الگ الگ اذان ہو۔ ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔یوپی۔ ١۴/جمادی الآخرہ ١۴۴٣ھ//١٨/جنوری ٢٠٢٢ء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9