Fatwa #1169
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
9,732
سوال (Question):
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قومیائے ہوئے بینک سے ملنے والی زائد رقم کا حکم ؟
سوال :انڈیا گورنمنٹ نے بینک کو قومیا لیا ہے۔ حفاظت کے لیے بکر نے اپنا روپیہ جمع کردیا ۔پانچ سال کے بعد جب بکر نے جائیداد خریدنے کے واسطے اپنا روپیہ نکالا تو اصل رقم کے ساتھ نفع کا بھی روپیہ ملا ۔ یہ روپیہ بکر کے لئے جائز ہے یا ناجائز ؟زید کا کہنا ہے کہ کہ قومیائے ہوئے بینک سے اصل رقم کے ساتھ جو زائد روپیہ ملا ہے اور جائز نہیں ہے کیونکہ بینک خالص ہندو مہاجن کے نہیں ہیں۔ اس کے مالک ہندو، مسلم,سکھ، عیسائی سبھی ہیں۔ یہ رقم سود ہوجاتی ہے بکر اسے کیا کرے ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ قومیائے ہوئے بینک کے مالک مسلمان بھی ہیں یہ صرف کہنے کے لئے ہے حقیقت میں اس کے مالک صرف یہاں کے کافر ہیں جو حربی ہیں اور مسلمان و حربی کے درمیان شرعاً سود نہیں کما فی الحدیث۔ لہذا ایسے بینک کا نفع مسلمان کیلئے جائز ہے۔ بکر اسے لے کر کسی بھی جائز کام میں خرچ کر سکتا ہے ۔ وھو سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ: مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9