صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1737 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 7,360

سوال (Question):

قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم از مفتی محمد نظام الدین قادری مصباحی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

قے (الٹی ہونے) سے روزہ ٹوٹنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ روزے کی حالت میں مسواک کرتے وقت اگر کھانے کی بمٹ (الٹی) ہوجایے تو روزے کا کیا حکم ہے؟ جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ سائل: عبدالجبار علیمی مقیم حال جمدا شاہی بستی الجوابـــــــــــــــ روزہ یاد نہ ہونے کی حالت میں کسی طرح کی قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اور اگر روزہ دار ہونا یاد ہے تو دو صورتیں ہیں: پہلی صورت یہ ہے کہ قے قلیل ہو یعنی منہ بھر نہ ہو۔ اس کی صرف ایک صورت میں روزہ ٹوٹتا ہے جس کا وجود بہت شاذ )نادر) ہے۔اور وہ یہ ہے کہ منہ سے علاحدہ ہوجانے کے بعد قلیل قے کا کچھ حصہ کوئی حلق سے نیچے اتارے۔بقیہ قلیل قے کی دیگر صورتوں میں روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ جیسے(١) قصداً قے کرنا (٢) قلیل قے کا کچھ حصہ بلا قصد حلق کے نیچے لوٹ جانا۔(٣) قلیل قے کا کچھ حصہ قصداً حلق سے نیچے لوٹانا، بشرطے کہ اس تیسری شکل میں منہ سے علاحدہ نہ ہوجائے۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ قے کثیر یعنی منہ بھر ہو۔اس کی دو صورتوں میں روزہ فاسد ہوجاتا ہے: (١) قصداً منہ بھر قے کرنا۔(٢) منہ بھر قے ہونے کی صورت میں قصداً کوئی جز حلق سے نیچے لوٹانا۔ لیکن اگر منہ بھر قے ہونے کی صورت میں کوئی جز بلا قصد حلق سے نیچے لوٹ جائے تو روزہ نہ ٹوٹے گا۔ امام اہل سنت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “والحاصل ان ما دون ملء الفم لا یفسد مطلقا، وان اعادہ ذاکراً صومہ، ای: قبل خروجہ من فیہ، فانہ ان اعاد الساقط والعیاذ باللہ تعالی افسد مطلقا اجماعاً بلا کفارة، الا ان یکون نسی الصوم۔ واما ما کام ملء الفم فیشترط فی الافساد بہ شرطان، احدھما صنع الصائم اما فی اخراجہ، وھو الاستقاء، او ادخالہ وھو الاعادة۔والثانی ان یکون ذلک الصنع وھو ذاکر للصوم، فان فقد احد ہذین الشرطین لم یفسد ما کان ملء الفم ایضا مطلقا، فافھم۔” (جد الممتار، کتاب الصوم، ج٢ ص٢٠٦) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١۵/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١٧/اپریل ٢٠٢٢ء

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh