صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1996 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,029

سوال (Question):

لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دیا جائے تو اس کا لگانا کیسا؟

سوال : علماء کرام کی بارگاہ میں ایک عریضہ پیش خدمت ہے کہ اگر کوئی چیز یعنی لائٹ سولر وغیرہ اگر گورنمنٹ کی طرف سے مساجد میں لگوانے کے لئے مفت میں دی جائے تو کیا اس کا لگانا شرعا جائز ہے کہ نہیں جواب سے آگاہ کریں ؟؟ الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب گورنمنٹ کی طرف سے فراہم کردہ بجلی یا کوئی دیگر سامان کا استعمال مسجد و مدرسہ وغیرہ میں کرسکتے ہیں کوئی مضائقہ نہیں  ۔ اس کے متعلق (” فتاویٰ مرکز تربیت افتاء” ج: (٢) ص: (١٩٥) پر ہے کہ ) ” میونسپلٹی فنڈ, یا ایم ایل اے, یا ایم پی, یادیگر اور کسی بھی سرکاری فنڈ کی رقم سے مسجد بنانا, یا مسجد کا وضو خانہ, مسجد کی چہار دیواری ( باؤنڈری وال) یا مسجد کا بیت الخلاء وغیرہ بنوانا درست ہے – کیونکہ گورنمنٹ کے خزانہ سے جاری رقم ہمیں میونسپلٹی کے ذریعے ملے یا ایم پی, ایم ایل اے کے ذریعہ اسے مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے لینا اور مسجد میں صرف کرنا جائز و درست ہے – اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ‘ خزانہ والئ ملک کی ذاتی ملک نہیں ہوتا اس کے لینے میں حرج نہیں – جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کے خلاف نہ ہو ‘ (“فتاوی رضویہ” ج :(٦) ص: (۴۶۰) وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم کتبہ:محمدرضا مرکزی خادم التدریس والافتا الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh