صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #113 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

لاشوں کی چیر پھاڑ کا شرعی حکم از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 13,030

سوال (Question):

لاشوں کی چیر پھاڑ کا شرعی حکم از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

علمِ تشریح الاعضا کے لیے لاشوں کی چیر پھاڑ

پانچویں نشست : ۲۰؍ ربیع النور ۱۴۴۰ھ /مطابق ۲۹؍ نومبر ۲۰۱۸ء ـــ جمعرات، ـــ صبح بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ٭ حَامِدًا و مُصَلِّـيًا و مُسَلِّمًـا ﴿خلاصۂ فیصلہ ﴾ لاشوں کی چیر پھاڑ بغیر اضطرار شرعی کے درست نہیں، مگراب اسے جدید علمِ طب کا ایک لازمہ ٹھہرا دیا گیا ہے، تاہم مناسب یہ ہے کہ انسانی ماڈل اور اَینی میٹیڈ ویڈیوز سے علم تشریح الاعضاء سیکھیں اور جدید ماہرین تشریح درس دیں، اس میں کچھ کمی ہو تو الٹرا ساؤنڈ کی طرح کوئی باطن نما مشین ایجاد کر یں ۔ علاوہ ازیں ہر مرض کی دوا کی تفتیش جاری رکھیں ۔ خدائے پاک نے ہر بیماری کی دوا پیدا فرمائی ہے جیسا کہ حدیث نبوی کا مفاد ہے، بس لگن کے ساتھ اس کی کھوج کی ضرورت ہے ۔ علمِ تشریحِ اعضا ایک اہم اور مفید تر علم ہے مگر اس کے لیے لاشوں کی چیر پھاڑ جائز نہیں کہ یہ انسان کی توہین و ایذا ہے، یہ اصل حکمِ شرع ہے ۔ مگر ایک عرصے سے تشریحِ اعضا و منافع اعضا کا درس لاشوں کے اندرونی اعضا کا مشاہدہ کرا کر دیا جاتا ہے اور اس میں مہارت علمِ طب میں بڑی کامیابی اور اونچی ڈگری کا سبب بنتی ہے ۔ اور آج ایسے اطبا کے یہاں عوام و خواص کثرت سے رجوع کرتے اور ان کے علاج سے شفا پاتے ہیں ۔ اور اب حال یہ ہے کہ علمِ طب حاصل کرنے والوں کے لیے لاشوں کی چیر پھاڑ کے درس میں شامل ہونا اور اس کی عملی مشق کرنا ضروری ہے ۔ اس کے بغیر وہ غیر حاضر تصور کیے جائیں گے، نیز ایم۔بی۔بی۔ایس، ایم۔ایس، وغیرہ کی سند حاصل کرنے کے لیے چیر پھاڑ کی عملی مشق کے امتحان سے گزرنا بھی ضروری ہے ۔ تاہم مناسب ہوگا کہ لاشوں کی چیر پھاڑ کے بجاے انسانی ماڈل اور اَینی میٹیڈ animated ویڈیوز سے علم تشریح اعضا سیکھیں اور جدید ماہرین تشریح درس دیں، اس میں کچھ کمی ہو تو الٹرا ساؤنڈ کی طرح کوئی باطن نما مشین ایجاد کریں۔ علاوہ ازیں ہر طرح کی بیماری کے علاج کے لیے ہمارے مسلم ڈاکٹر بھی دواکی تفتیش اور ریسرچ جاری کریں اور خدائے پاک سے امید رکھیں کہ وہ ان پر ہر طرح کی بیماری کی دوا ظاہر فرما دے، اس نے ہر بیماری کی دوا پیدا فرما ئی ہے، بس لگن کے ساتھ اس کی کھوج کی ضرورت ہے ۔ عَنۡ أبِيۡ ہُرَیۡرَۃَ عَنِ النّبي صلی اللہ تعالیٰ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”مَا اَنۡزَلَ اللہُ دَاءً إِلَّا اَنۡزَلَ لَہٗ شِفَاءً۔“ (صحیح البخاری، ج:۲، ص:۸۴۸، کتاب الطب، باب ما انزل اللہ داء إلّا انزل لہ شفاءً) اس کی شرح فتح الباری میں ہے: ”ووقع في روایۃ طارق بن شھاب عن ابن مسعود رفعُہ ”إنّ اللہ لم ینزل داءً إلَّا أنزل لہ شفاء فتداووا۔“ وأخرجہ النسائی وصحّحہ ابن حبان والحاکم، ونحوہ للطحاوي وأبي نعیم من حدیث ابن عباس … ولمسلم عن جابر رفعہ ”لکل داء دواء، فإذا أصیب دواء الداء برأ بإذن اللہ تعالیٰ.“ ولأبي داؤد من حدیث أبي الدرداء رفعہ ”إن اللہ جعل لکل داء دواء فتداووا، ولا تداووا بحرام“… ویدخل في عمومھا أیضا الداء القاتل الذي اعترف حذاق الأطباء بأن لا دواء لہ، وأقرّوا بالعجز عن مداواتہ ولعلّ الإشارۃ في حدیث ابن مسعود بقولہ ”وجھلہ من جھلہ“ إلیٰ ذلک فتکون باقیۃ علیٰ عمومھا۔“ (فتح الباري بشرح صحیح البخاري، ج:۱۳، ص:۷، ۸، دار أبی حیان) واللہ تعالیٰ اعلم ۔

از : مفتی نظام الدین رضوی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مبارک پور

پوسٹ مارٹم کی شرعی حیثیت از مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ

 

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh