Fatwa #687
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:
لاٹری کاشرعی حکم کیاہے اور لاٹری کاپیسہ لیناکیساہے ؟
Questioner: Questioner
Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh
Date: September 18, 2025
0
13,075
سوال (Question):
لاٹری کاشرعی حکم کیاہے اور لاٹری کاپیسہ لیناکیساہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
لاٹری کاشرعی حکم کیاہے اور لاٹری کاپیسہ لیناکیساہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــ لاٹری اور جوا ناجائزوحرام ہے لہذا اگر کسی نے لاٹری کے ذریعے مال لیا ہے تو وہ مالک کو واپس کرے ورنہ فقراء پر صدقہ کر دے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : “يا ايها الذين امنوا انما الخمر والميسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون” (سورۃ المائدہ : 90) ترجمہ : اےایمان والو بیشک شراب اور جوا اوربت اورفال کےتیر ناپاکی کےہیں اورشیطانی کام ہیں تم ان سےبچو تاکہ تم کامیابی پاؤ ۔ اس آیت کی تفسیر کے تحت علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں : “وفي حكم الميسر جميع أنواع القمار من النرد، والشطرنج، وغيرهما حتى أدخلوا فيه لعب الصبيان بالجوز والكعاب، في غير القسمة، وجميع أنواع المخاطرة والرهان” یعنی اسی حکم میں جوے کی تمام اقسام داخل ہیں یعنی نرد شطرنج یہاں تک کہ علماء نے بچوں کا کھیل جو اخروٹ اور ہڈیوں سے کھیلتے ہیں اسی میں داخل فرمایا ہے اور یہ تقسیم کے بغیر قرعہ اندازی ہے الغرض ہر وہ جس میں نفع و نقصان شرط میں داخل ہو اور رہن وغیرہ جس میں شرط لگائی جائے اسی میں داخل ہے ۔ (روح المعانی جلد 2 صفحہ 114) اعلی حضرت قدس سرہ فرماتےہیں : “جس قدر مال جوئے میں کمایا محض حرام ہے۔ فی الدر من السحت ما یأخذ مقامر” (باختصار) یعنی درمختار میں ہےکہ جوئے میں حاصل کیا ہوا مال حرام ہے”۔ (درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع) اور اس سے برائت کی یہی صورت ہے کہ جس جس سے جتنا مال جیتا ہے اسے واپس دے، یا جیسے بنے اسے راضی کرکے معاف کرالے۔ وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو واپس دے، یا ان میں جو عاقل بالغ ہوں ان کا حصہ ان کی رضامندی سے معاف کرالے۔ باقیوں کا حصہ ضرور انہیں دے کہ اس کی معافی ممکن نہیں، اور جن لوگوں کا پتہ کسی طرح نہ چلے نہ ان کا، نہ ان کے ورثاء کا ، ان سے جس قدر جیتا تھا ان کی نیت سے خیرات کردے، اگرچہ اپنے محتاج بہن، بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں کو دے دے، اس کے بعد جو بچ رہے گا وہ اس کے لئے حلال ہے ۔ عالمگیری میں ہے: “کان الاخذ معصیۃ والسبیل فی المعاصی ردہا، وذلک ھہنا برد الماخوذ ان تمکن من ردہ، بان عرف صاحبہ، وبالتصدق بہ ان لم یعرفہ” یعنی لینا گناہ ہے اور گناہ کے ازالہ کی صورت اس کو واپس کرنا ہے اور یہاں لئے ہوئے کو ردکرنا ہوگا, جب واپس کرنا ممکن ہو کہ اس کے مالک کو جانتا ہو یا پھر معلوم نہ ہو تو صدقہ کرنا ہوگا ۔ (فتاوی عالمگیری کتاب الکراہیۃ الباب الخامس عشر جلد 5 صفحہ 349 نورانی کتب خانہ پشاور) ردالمحتارمیں ہے: “ان علمت اصحابہ او ورثتہم وجب ردہ علیہم، والا وجب التصدق بہ” (ردالمحتار کتاب الزکوۃ باب زکوٰۃ الغنم جلد2 صفحہ 26 داراحیاءالتراث العربی بیروت) یعنی اگر اس کے مالک یا مالک کے ورثاء کو جانتا ہے تو واپس کرنا واجب ہے, ورنہ صدقہ کرنا واجب ہے”۔ (فتاوی رضویہ شریف جلد19ص651,652) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh
Recent Fatawa
غوث پاک نے حضرت عزرائیل سے روح کا تھیلا چھین لیا یہ کہنا کیسا ہے؟
Read Fatwa
19
منگنی کی مجلس میں لڑکی کی طرف سے وکیل اور دوگواہوں کے سامنے مہر رکھ کر لڑکی سے اجابت لیکر
Read Fatwa
13
نفلی صدقہ /چندہ کا حکم از مفتی شان محمد مصباحی
Read Fatwa
12
مقتدی کو ترک واجب کا یقین ہو اور امام کو کچھ اندازہ نہ ہو تو نماز کا اعادہ کیا جاے
Read Fatwa
17
کسی وہابی دیوبندی یا گستاخ رسول کو امام بنانا کیسا ہے؟
Read Fatwa
9