صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1873 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 6,388

سوال (Question):

لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لپسٹک ( Lipstick ) لگانا کیسا ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی استاذ مکرم حضرت مفتی صاحب قبلہ مندرجہ ذیل مسئلے کا تحریری جواب عنایت فرمادیں کہ عورتوں کو لپسٹک لگانا کیسا ہے؟ المستفتیہ حسن آرا بنارس۔ الجواب بعون الملک الوھاب لپسٹک میں حرام و ناپاک اشياء ملی ہوں تو اس کا لگانا حرام ہے۔ ورنہ جائز کہ وہ سامان زینت ہے اور عورتوں کے لئے زینت روا ہے ہاں بچنا افضل ہے۔ اور اس کا جرم پانی کو روکتا ہے تو اس کے ہوتے ہوئے وضو و غسل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا وضو و غسل سے پہلے اسے اچھی طرح صاف کرنا لازم ہے۔ فتاوی یورپ میں ہے: “لپسٹک اور ناخن پالش(Lip stick $ Nagellak) جن میں حرام اور ناپاک اشیاء کی آمیزش ہو ان کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے حرام ہے۔ اور ان کے لگے رہنے کی صورت میں نہ وضو صحیح ہے نہ غسل اور نہ ہی نماز، ہاں اگر لپسٹک اور نیل پالش کے ساتھ اس کا فارمولہ بھی موجود ہو جس سے ظن غالب (ملحق بہ یقین) ہو کہ اس میں کوئ ناپاک اور حرام اشياء کی ملاوٹ نہیں ہے تو اس کا استعمال مسلمہ عورتوں کے لئے جائز ہے کہ وہ سامان زینت ہے اور عورتوں کے لئے زینت روا ہے ” اھ (ص ١٠٧، کتاب الطھارۃ ، مطبوعہ شبیر برادرز لاہور) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی ۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh