صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #1154 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
Reader Font:

لڑکی نے مہر 135 بتایا اور باپ نے 35 پر کردیا تو کیا حکم ہے؟

Questioner: Darul Ifta / Scholar: Verified Hanafi Fiqh Date: September 18, 2025
0 8,036

سوال (Question):

لڑکی نے مہر 135 بتایا اور باپ نے 35 پر کردیا تو کیا حکم ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

لڑکی نے مہر 135 بتایا اور باپ نے 35 پر کردیا تو کیا حکم ہے؟

سوال : زید اور خالد نے اپنے لڑکے اور لڑکی کی شادی طے کی. جب لڑکی سے اجازت لینے گئے تو لڑکی نے اپنا دین مہر ایک سو پینتیس روپے دس آنہ بتایا. جب لڑکے سے ایجاب و قبول کرایا گیا تو لڑکے نے انکار کر دیا. اس کے بعد زید اور خالد نے آپس میں طے کرکے مبلغ 35 روپے ساڑھے ١٠ آنہ دین مہر پر نکاح پڑھوایا لڑکی کو اس کی کوئی خبر نہیں وہ تو یہی سمجھ رہی تھی کہ ایک سو پینتیس روپے دس آنہ پر ہی نکاح پڑھایا گیا ہے ایسی صورت میں جب کہ لڑکا اور لڑکی دونوں بالغ ہیں تو نکاح ہوا کہ نہیں؟ شرع کے مطابق جیسا حکم ہو صادر فرمایا جائے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ صورت مستفسرہ میں نکاح فضولی ہوا یعنی جس وقت لڑکی کو کو 35 روپے دس آنہ مہر پر نکاح ہونے کا علم ہوا اس وقت اگر لڑکی نے اس نکاح کو نامنظور کر دیا تو نکاح باطل ہوگیا ۔ اور اگر منظور کرلیا تو ہو گیا. ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب کتبـــــــــــہ : مفتی جلال الدین احمد الامجدی ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 682

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh